ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وما خَلَقْتُ الجنَّ وَالإنسَ إلاَّ لِيَعْبُدونِ﴾ [الذَّارِيَات: ۵۶].
“اور میں نے جن و انس کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔”
مزید ارشاد ہے: ﴿ولقدْ بَعَثْنا فِي كلِّ أمَّةٍ رَّسولاً أنِ اعبدُوا اللهَ واجتَنِبُوا الطَّاغوتَ﴾ [النَّحْل: ۳۶].
“اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔”
مزید ارشاد ہے: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ ألاَّ تَعبُدُوا إلاَّ إيَّاهُ وبالوالدَيْنِ إحْسَانًا إمَّا يَبْلُغَنَّ عندَكَ الكِبَرَ أحَدُهُمَا أوكِلاهُمَا فلا تَقُلْ لهما أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وقُل لهما قولاً كَرِيمًا، واخْفِضْ لهما جَنَاحَ الذُّلِّ مِن الرَّحمَةِ وقُل رَّبِّ ارْحَمْهُما كَمَا رَبَّيَاني صَغِيرًا﴾ [الإِسْرَاء:۲۳-۲۴].
“اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔”
مزید ارشاد ہے: ﴿واعبُدوا اللهَ ولا تُشْرِكوا بِهِ شَيْئًا﴾ [النِّسَاء:۳۶].
“اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔”
مزید ارشاد ہے: ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ ما حرَّم رَبُّكم عليكم ألاَّ تُشرِكوا بهِ شَيْئًا وبالوَالِدينِ إحسَانًا ولا تقتلُوا أولادَكُمْ مِنْ إمْلاقٍ نحنُ نَرْزُقُكُمْ وإيَّاهُم وَلا تَقْرَبُوا الفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنها ومَا بَطَنَ وَلا تقتلُوا النَّفسَ الَّتِي حَرَّم اللهُ إلاَّ بالحَقِّ ذلِكُمْ وَصَّاكُم بهِ لَعَلَّكُمْ تَعقِلُونَ (۱۵۱) وَلا تَقْرَبُوا مَالَ اليَتِيمِ إلاَّ بِالَّتي هِيَ أحسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أشُدَّهُ وَأوفُوا الكَيلَ وَالمِيزَانَ بِالقِسْطِ لا نُكَلِّفُ نَفْسًا إلاَّ وُسْعَها وإذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَو كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعهدِ الله أَوفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (۱۵۲) وأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُستَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ [الأَنْعَام:۱۵۱-۱۵۳].
“آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں، جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت جاؤ، خواہ وہ علانیہ ہوں خواہ پوشیدہ، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے، اس کو قتل مت کرو۔ ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو، تو انصاف کرو، گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو، اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو۔ ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم یاد رکھو۔ اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔”
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس وصیت کو دیکھنا چاہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پڑھنا چاہیے: “آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں، جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ” اس فرمانِ باری تعالیٰ تک: “اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔” الآیۃ۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟» میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اسے عذاب نہ دے، جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔» میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہیں! ایسا نہ ہو کہ وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں۔» اسے امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: جن و انسان کی تخلیق میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت۔
دوسرا مسئلہ: عبادت ہی اصل توحید ہے۔ اس لیے کہ (نبیوں اور ان کی امتوں کے بیچ میں) یہی بات متنازع فیہ تھی۔
تیسرا مسئلہ: جس نے توحید کو نہیں مانا، اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ﴾ (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو، جس کی میں عبادت کر رہا ہوں) کا مفہوم بھی یہی ہے۔
چوتھا مسئلہ: رسولوں کی بعثت میں پنہاں اللہ کی حکمت۔
پانچواں مسئلہ: ہر امت کے اندر رسول بھیجے گئے ہیں۔
چھٹا مسئلہ: تمام انبیا کا دین ایک ہے۔
ساتواں مسئلہ: اس بڑے مسئلہ کا پتہ چلتا ہے کہ طاغوت کا انکار کیے بغیر اللہ کی عبادت ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا معنی بھی موجود ہے: ﴿فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ﴾ (اس لیے جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا) الآیۃ۔
آٹھواں مسئلہ: ’طاغوت‘ ہر اُس چیز کو کہتے ہیں، جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔
نواں مسئلہ: سلف صالحین کے نزدیک سورۃ انعام کی مذکورہ تینوں محکم آیتوں کی بڑی اہمیت اور عظمت ہے۔ ان آیتوں کے اندر دس احکام و مسائل مذکور ہیں، جن میں سب سے پہلا حکم شرک سے ممانعت ہے۔
دسواں مسئلہ: سورۃ الاسراء کی محکم آیات میں اٹھارہ مسائل بیان کیے گئے ہیں، جن کا آغاز اللہ نے اپنے اس فرمان سے کیا ہے: (اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا کہ آخرش تو برے حالوں بے کس ہو کر بیٹھ رہے گا) اور ان کا اختتام اپنے اس فرمان پر کیا ہے: (اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے) پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان مسائل کی اہمیت پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: (یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے، جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے)۔
گیارہواں مسئلہ: سورہ النساء کی وہ آیت، جو دس حقوق والی آیت کہلاتی ہے۔ اس کا آغاز بھی اللہ نے (توحید پر مشتمل) ان الفاظ سے کیا ہے: (اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو)۔
بارہواں مسئلہ: اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس وصیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت فرمائی تھی۔
تیرہواں مسئلہ: اس بات کو جاننا کہ ہم بندوں پر اللہ کے کیا حقوق ہیں؟
چودہواں مسئلہ: یہ بھی جاننا کہ جب بندے اللہ کے حقوق ادا کریں، تو اللہ پر بندوں کے کیا حقوق ہیں؟
پندرہواں مسئلہ: یہ کہ مذکورہ بالا مسئلے سے اکثر صحابہ واقف نہ تھے۔
سولہواں مسئلہ: کسی مصلحت کے پیشِ نظر کتمانِ علم جائز ہے۔
سترہواں مسئلہ: کسی بھی مسلمان کو ایسی بشارت دینا مستحب ہے، جس سے اسے خوشی حاصل ہو۔
اٹھارہواں مسئلہ: اللہ کی بے پایاں رحمت پر بھروسہ کرکے بیٹھے رہنے سے ڈرنا چاہیے۔
انیسواں مسئلہ: اگر کسی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور اُسے اس کے بارے میں علم نہ ہو، تو اُسے یہ کہہ دینا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔
بیسواں مسئلہ: کسی کو خصوصی طور پر کوئی جانکاری دینا اور دوسرے کو نہ دینا بھی جائز ہے۔
اکیسواں مسئلہ: اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع و انکسار کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے پر سوار ہوئے اور اپنے پیچھے ایک شخص کو بٹھایا بھی۔
بائیسواں مسئلہ: سواری پر اپنے پیچھے کسی دوسرے کو بٹھا لینا جائز ہے۔
تئیسواں مسئلہ: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
چوبیسواں مسئلہ: توحید کی اہمیت و عظمت۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس