Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۱ / ۶۷

کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وما خَلَقْتُ الجنَّ وَالإنسَ إلاَّ لِيَعْبُدونِ﴾ [الذَّارِيَات: ۵۶].

“اور میں نے جن و انس کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔”

مزید ارشاد ہے: ﴿ولقدْ بَعَثْنا فِي كلِّ أمَّةٍ رَّسولاً أنِ اعبدُوا اللهَ واجتَنِبُوا الطَّاغوتَ﴾ [النَّحْل: ۳۶].

“اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔”

مزید ارشاد ہے: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ ألاَّ تَعبُدُوا إلاَّ إيَّاهُ وبالوالدَيْنِ إحْسَانًا إمَّا يَبْلُغَنَّ عندَكَ الكِبَرَ أحَدُهُمَا أوكِلاهُمَا فلا تَقُلْ لهما أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وقُل لهما قولاً كَرِيمًا، واخْفِضْ لهما جَنَاحَ الذُّلِّ مِن الرَّحمَةِ وقُل رَّبِّ ارْحَمْهُما كَمَا رَبَّيَاني صَغِيرًا﴾ [الإِسْرَاء:۲۳-۲۴].

“اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔”

مزید ارشاد ہے: ﴿واعبُدوا اللهَ ولا تُشْرِكوا بِهِ شَيْئًا﴾ [النِّسَاء:۳۶].

“اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔”

مزید ارشاد ہے: ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ ما حرَّم رَبُّكم عليكم ألاَّ تُشرِكوا بهِ شَيْئًا وبالوَالِدينِ إحسَانًا ولا تقتلُوا أولادَكُمْ مِنْ إمْلاقٍ نحنُ نَرْزُقُكُمْ وإيَّاهُم وَلا تَقْرَبُوا الفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنها ومَا بَطَنَ وَلا تقتلُوا النَّفسَ الَّتِي حَرَّم اللهُ إلاَّ بالحَقِّ ذلِكُمْ وَصَّاكُم بهِ لَعَلَّكُمْ تَعقِلُونَ (۱۵۱) وَلا تَقْرَبُوا مَالَ اليَتِيمِ إلاَّ بِالَّتي هِيَ أحسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أشُدَّهُ وَأوفُوا الكَيلَ وَالمِيزَانَ بِالقِسْطِ لا نُكَلِّفُ نَفْسًا إلاَّ وُسْعَها وإذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَو كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعهدِ الله أَوفُوا ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (۱۵۲) وأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُستَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ [الأَنْعَام:۱۵۱-۱۵۳].

“آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں، جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت جاؤ، خواہ وہ علانیہ ہوں خواہ پوشیدہ، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے، اس کو قتل مت کرو۔ ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو، تو انصاف کرو، گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو، اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو۔ ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم یاد رکھو۔ اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔”

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس وصیت کو دیکھنا چاہے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پڑھنا چاہیے: “آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں، جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ” اس فرمانِ باری تعالیٰ تک: “اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے۔” الآیۃ۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟» میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اسے عذاب نہ دے، جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔» میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نہیں! ایسا نہ ہو کہ وہ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں۔» اسے امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: جن و انسان کی تخلیق میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت۔

دوسرا مسئلہ: عبادت ہی اصل توحید ہے۔ اس لیے کہ (نبیوں اور ان کی امتوں کے بیچ میں) یہی بات متنازع فیہ تھی۔

تیسرا مسئلہ: جس نے توحید کو نہیں مانا، اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ﴾ (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو، جس کی میں عبادت کر رہا ہوں) کا مفہوم بھی یہی ہے۔

چوتھا مسئلہ: رسولوں کی بعثت میں پنہاں اللہ کی حکمت۔

پانچواں مسئلہ: ہر امت کے اندر رسول بھیجے گئے ہیں۔

چھٹا مسئلہ: تمام انبیا کا دین ایک ہے۔

ساتواں مسئلہ: اس بڑے مسئلہ کا پتہ چلتا ہے کہ طاغوت کا انکار کیے بغیر اللہ کی عبادت ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا معنی بھی موجود ہے: ﴿فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ﴾ (اس لیے جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا) الآیۃ۔

آٹھواں مسئلہ: ’طاغوت‘ ہر اُس چیز کو کہتے ہیں، جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔

نواں مسئلہ: سلف صالحین کے نزدیک سورۃ انعام کی مذکورہ تینوں محکم آیتوں کی بڑی اہمیت اور عظمت ہے۔ ان آیتوں کے اندر دس احکام و مسائل مذکور ہیں، جن میں سب سے پہلا حکم شرک سے ممانعت ہے۔

دسواں مسئلہ: سورۃ الاسراء کی محکم آیات میں اٹھارہ مسائل بیان کیے گئے ہیں، جن کا آغاز اللہ نے اپنے اس فرمان سے کیا ہے: (اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا کہ آخرش تو برے حالوں بے کس ہو کر بیٹھ رہے گا) اور ان کا اختتام اپنے اس فرمان پر کیا ہے: (اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے) پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان مسائل کی اہمیت پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: (یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے، جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے)۔

گیارہواں مسئلہ: سورہ النساء کی وہ آیت، جو دس حقوق والی آیت کہلاتی ہے۔ اس کا آغاز بھی اللہ نے (توحید پر مشتمل) ان الفاظ سے کیا ہے: (اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو)۔

بارہواں مسئلہ: اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس وصیت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت فرمائی تھی۔

تیرہواں مسئلہ: اس بات کو جاننا کہ ہم بندوں پر اللہ کے کیا حقوق ہیں؟

چودہواں مسئلہ: یہ بھی جاننا کہ جب بندے اللہ کے حقوق ادا کریں، تو اللہ پر بندوں کے کیا حقوق ہیں؟

پندرہواں مسئلہ: یہ کہ مذکورہ بالا مسئلے سے اکثر صحابہ واقف نہ تھے۔

سولہواں مسئلہ: کسی مصلحت کے پیشِ نظر کتمانِ علم جائز ہے۔

سترہواں مسئلہ: کسی بھی مسلمان کو ایسی بشارت دینا مستحب ہے، جس سے اسے خوشی حاصل ہو۔

اٹھارہواں مسئلہ: اللہ کی بے پایاں رحمت پر بھروسہ کرکے بیٹھے رہنے سے ڈرنا چاہیے۔

انیسواں مسئلہ: اگر کسی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے اور اُسے اس کے بارے میں علم نہ ہو، تو اُسے یہ کہہ دینا چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔

بیسواں مسئلہ: کسی کو خصوصی طور پر کوئی جانکاری دینا اور دوسرے کو نہ دینا بھی جائز ہے۔

اکیسواں مسئلہ: اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع و انکسار کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے پر سوار ہوئے اور اپنے پیچھے ایک شخص کو بٹھایا بھی۔

بائیسواں مسئلہ: سواری پر اپنے پیچھے کسی دوسرے کو بٹھا لینا جائز ہے۔

تئیسواں مسئلہ: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔

چوبیسواں مسئلہ: توحید کی اہمیت و عظمت۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app