جُندُب بن عبدالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ایک شخص بولا کہ اللہ کی قسم! اللہ تعالی فلاں شخص کو نہیں بخشے گا، تو اللہ عزّ و جلّ نے فرمایا کہ وہ کون ہے جو قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ جاؤ، میں نے اس کو بخش دیا اور تیرے عمل کو ضائع کر دیا۔» اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایسا کہنے والا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ اُس نے ایسی بات کہہ دی، جس نے اُس کی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر دیا۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھانے سے ڈرایا گیا ہے۔
دوسرا مسئلہ: جہنم ہمارے جوتے کی تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔
تیسرا مسئلہ: اسی طرح جنت بھی ہم سے بہت قریب ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ الخ» ﴿بسا اوقات انسان کوئی ایسی بات کہہ جاتا ہے جس سے اُس کی دنیا وآخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔﴾ کی تصدیق وتائید ہوتی ہے۔
پانچواں مسئلہ: بسا اوقات انسان کی کسی ایسے سبب سے بخشش ہوجاتی ہے، جو اس کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم