Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۱۶ / ۶۷

باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23]

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اور صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے، تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے سامنے عاجزی کے طور اس طرح پر مارتے ہیں، کہ اس وقت ایسی آواز پیدا ہوتی ہے کہ گویا کسی صاف پتھر پر زنجیر کے پڑنے کی آواز ہو۔ یہ فرمان ان فرشتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے، تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: تمھارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ تو وہ جو کچھ اللہ نے فرمایا ہوتا ہے، اس کے متعلق کہتے ہیں کہ بالکل بر حق ہے اور وہی سب سے بلند و بر تر ہے۔ پھر سنی ہوئی بات کو چوری کرنے والے شیاطین بھی سن لیتے ہیں اور چوری کرنے والے شیاطین اس طرح ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔ سفیان نے اپنی ہتھیلی سے اس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ہتھیلی کو ٹیڑھا کیا اور انگلیوں کے درمیان فاصلہ کیا۔ بہر حال وہ اس کلمۂ حق کو سن کر اپنے نیچے والے تک پہنچاتا ہے اور ہر دوسرا اپنے سے نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے کسی جادو گر یا نجومی کے کان میں ڈال دیتا ہے۔ پھر کبھی تو اس کے پہنچانے سے پہلے ہی شہاب ثاقب اسے پا لیتا ہے اور کبھی اس کی پکڑ میں آنے سے پہلے وہ کلمہ پہنچا لیتا ہے، پھر وہ ساحر یا نجومی اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا لیتا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: کیا فلاں اور فلاں دن اس نے ہم سے اس اس طرح نہیں کہا تھا؟ تو وہ کلمہ جو آسمان سے سنا گیا تھا، اس کی وجہ سے اس کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھا جاتا ہے۔"

اور نوّاس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: »جب اللہ تعالیٰ کسی بات کی وحی کا ارادہ فرماتا ہے، تو وہ اس وحی کا تکلم فرماتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے تمام آسمانوں پر دہشت اور کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ جب آسمان والے اس آواز کو سنتے ہیں، تو بے ہوش ہو جاتے ہیں اور اللہ کے لئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ پھر سب سے پہلے جبریل علیہ السلام سر اٹھاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی میں سے جو چاہتا ہے، اس کے ساتھ ان سے گفتگو فرماتا ہے۔ پھر جبریل فرشتوں کے پاس سے گزرتے ہیں۔ جب جب وہ کسی آسمان سے گزرتے ہیں، تو اس کے فرشتے پوچھتے ہیں کہ اے جبریل! ہمارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ تو جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: اس نے حق فرمایا ہے اور وہ بلند مقام والا اور بزرگ و بر تر ہے۔ پھر سارے فرشتے یہی الفاظ پکارتے ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام اس وحی کو، جہاں اللہ عزّ و جل کا حکم ہوتا ہے، پہنچا دیتے ہیں۔«

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: آیتِ کریمہ: ﴿قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔

دوسرا مسئلہ: اس آیت میں شرک کے باطل ہونے کی دلیل موجود ہے۔ بالخصوص ایسے شرک کی، جس کا تعلق صالحین امت سے ہے۔ یہی وہ آیت ہے، جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ آیت دل سے شرک کے پیڑ کی جڑوں کو کاٹ پھینکتی ہے۔

تیسرا مسئلہ: اس میں اس آیتِ کریمہ کی بھی تفسیر ہے: ﴿قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿انھوں نے کہا کہ اس نے بجا فرمایا ہے اور وہ بلند مقام اور بزرگ و بر تر ہے۔﴾

چوتھا مسئلہ: اس کے بارے میں فرشتوں کے سوال کرنے کا سبب بھی اس میں مذکور ہے۔

پانچواں مسئلہ: فرشتوں کے سوال پر جبریل علیہ السلام انہیں یہ کہتے ہوئے جواب دیتے ہیں: »اللہ تعالیٰ نے ایسا ایسا فرمایا ہے۔«

چھٹا مسئلہ: یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ ﴿جب سب فرشتے بے ہوش ہو جاتے ہیں، تو﴾ جبریل علیہ السلام سب سے پہلے اپنا سر اٹھاتے ہیں۔

ساتواں مسئلہ: جبریل علیہ السلام سارے آسمان والوں کو یہ جواب دیتے ہیں، اس لیے کہ سبھی اُن سے یہ سوال پوچھتے ہیں۔

آٹھواں مسئلہ: بے ہوشی اور غشی سارے آسمانوں کے فرشتوں پر طاری ہوتی ہے۔

نواں مسئلہ: سارے آسمان اللہ کے کلام سے لرزا اٹھتے ہیں۔

دسواں مسئلہ: جبریل علیہ السلام ہی وہ فرشتے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اُس کی وحی کو وہاں پہنچاتے ہیں، جہاں کا حکم ہوتا ہے۔

گیارہواں مسئلہ: یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ شیاطین چوری چھپے اللہ تعالیٰ کی باتیں سنتے ہیں۔

بارہواں مسئلہ: اس غرض سے ان کے ایک دوسرے کے اوپر سوار ہونے کی کیفیت۔

تیرہواں مسئلہ: ان شیاطین پر شہابِ ثاقب سے وار کیا جاتا ہے۔

چودہواں مسئلہ: بعض اوقات کاہن تک بات پہنچانے سے پہلے ہی شیطان شہاب کی زد میں آ جاتا ہے۔ جب کہ کبھی شہاب کی زد میں آنے سے پہلے ہی وہ اپنے انسانی دوست تک بات پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

پندرہواں مسئلہ: بعض اوقات کاہن کی بات صحیح بھی ثابت ہو جاتی ہے۔

سولہواں مسئلہ: کاہن اس ایک صحیح بات میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے۔

سترہواں مسئلہ: کاہن کی ان ساری جھوٹی باتوں کی لوگ محض اس لیے تصدیق کر دیتے ہیں، کیوں کہ آسمان سے سُنی ہوئی ایک بات صحیح نکل جاتی ہے۔

اٹھارہواں مسئلہ: انسانی نفوس باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ بھلا لوگ ایک بات سے کیسے چمٹ جاتے ہیں اور سو باتوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے!!

سترہواں مسئلہ: شیاطین اس ایک بات کو ایک دوسرے سے حاصل کرتے جاتے ہیں اور اسے محفوظ کر لیتے ہیں اور اس کی بنیاد پر دوسری جھوٹی باتوں کے صحیح ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔

بیسواں مسئلہ: اس سے صفاتِ باری تعالیٰ کا انکار کرنے والے اشاعرہ کے بر خلاف اللہ کی صفات کا اثبات ہوتا ہے۔

اکیسواں مسئلہ: اس بات کی صراحت موجود ہے کہ یہ دہشت اور کپکپی اللہ تعالیٰ کے خوف سے ہوتی ہے۔

بائیسواں مسئلہ: فرشتے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app