باب ۴۲ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22]
“پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ”
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «انداد سے مراد شرک ہے، جو رات کے اندھیرے میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کے چلنے سے بھی زیادہ مخفی ہے۔»
اس کی مثال یہ ہے کہ تم کہو: «اللہ کی قسم، اے فلاں عورت! تیری زندگی کی قسم، اور میری زندگی کی قسم!»
اسی طرح تمہارا یہ کہنا: «اگر یہ کتیا نہ ہوتی تو ہمارے گھر میں چور گھس آتے! اور اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی ہو، ہمارے گھر میں چور آ جاتے!»
کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے: «جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں!»
اسی طرح کسی آدمی کا یہ کہنا: «اگر اللہ نہ ہوتا اور فلاں نہ ہوتا!»۔ اس طرح کی باتوں میں فلاں کو شامل نہ کرو، یہ سب مذکورہ مثالیں شرک کی باتیں ہیں۔ اسے ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔" اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے، جب کہ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔
اسے ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔
اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔"
اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے، جب کہ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔
اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اس طرح مت کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر فلاں چاہے۔" اسے احمد، ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
"اس طرح مت کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر فلاں چاہے۔"
اسے احمد، ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ "میں اللہ اور تیری پناہ میں آتا ہوں" حرام ہے۔ اس کی جگہ اس کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ "میں اللہ کی اور اس کے بعد پھر تیری پناہ میں آتا ہوں"۔ ابراہیم نخعی فرماتے تھے کہ یوں کہو: "اگر اللہ نہ ہوتا اور پھر فلاں نہ ہوتا" اور یوں نہ کہو کہ "اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتا"۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں 'انداد' سے متعلق سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: صحابہ کرام 'شرکِ اکبر' کے بارے میں اترنے والی آیتوں کی تفسیر اس طرح کرتے تھے کہ اس کے ضمن میں 'شرک اصغر' بھی آجاتا۔
تیسرا مسئلہ: غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے۔
چوتھا مسئلہ: غیر اللہ کی سچی قسم کھانا، اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھانے سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔
پانچواں مسئلہ: اس سے 'واو' ﴿اور﴾ اور 'ثُمّ' ﴿پھر﴾ کے الفاظ کے معنوی فرق کا علم ہوتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83]