صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ "اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما،اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما"۔اسے چاہیے کہ یقین کے ساتھ سوال کرے۔اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔"
اور صحیح مسلم میں ہے: "آدمی کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے پوری رغبت اور چاہت کے ساتھ مانگے، کیوں کہ اس کے ہاں کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔"
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: دعا میں استثنا کی ممانعت ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس ممانعت کی علت بھی بتائی گئی ہے۔
تیسرا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "لِیَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ" سے ثابت ہوتا ہے کہ دعا پورے یقین کے ساتھ کرنی چاہیے۔
چوتھا مسئلہ: اللہ سے سوال کرتے وقت مکمل رغبت اور چاہت کا اظہار ہونا چاہیے۔
پانچواں مسئلہ: اللہ سے سوال کرتے وقت مکمل رغبت اور چاہت کے اظہار کی علت بھی بیان کی گئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت
← پچھلا باب
باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت