باب ۶۷ / ۶۷
باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور اسی طرح زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی کو ایک انگلی پر, مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا اور فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودی عالم کی بات کی تصدیق کے طور پر اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے داڑھ والے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر یہ آیت پڑھی:
“اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ کہ ساری زمین قیامت کے دن اسی کی مٹھی میں ہوگی”
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ""سارے پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھے گا، پھر ان کو ہلا کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں! میں ہی اللہ ہوں!""
جب کہ بخاری کی ایک روایت میں ہے: ""اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا۔""
اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے: "روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ! کہاں ہیں وہ لوگ، جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ، جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ! کہاں ہیں وہ، جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ، جو متکبر بنے پھرتے تھے؟"
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اللہ کی ہتھیلی میں ایسے ہیں، جیسے تم میں سے کسی کی ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔"
ابن جریر کہتے ہیں کہ مجھ سے یونس نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، وہ کہتے ہیں ابن زید نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کرسی کے مقابلے میں سات آسمانوں کی نسبت ایسے ہی ہے، جیسے سات درہم کسی ڈھال میں رکھے ہوں۔"
اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ''کرسی عرش کے مقابلہ میں یوں ہے، جیسے لوہے کا چھلا زمین کے کسی وسیع و عریض صحرا میں پڑا ہو۔''
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: "پہلے اور دوسرے آسمان کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اسی طرح ہر آسمان سے اگلے آسمان تک اتنا ہی فاصلہ ہے۔ ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ کرسی اور پانی کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ عرشِ الٰہی پانی کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے۔ تمہارا کوئی عمل اس سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔"
اس حدیث کو ابن مہدی نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے زر سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ اسے کچھ اسی طرح مسعودی نے عاصم سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ یہ بات حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ وہ مزید فرماتے ہیں: اس کے کئی طرق ہیں۔
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟" ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ پھر ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی دوری ہے۔ ہر آسمان کی کثافت ﴿موٹائی﴾ پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔ ساتویں آسمان اور عرشِ الٰہی کے درمیان ایک سمندر ہے، جس کے نیچے اور اوپر والے حصوں کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر ہے۔ اور اولادِ آدم کے اعمال میں سے کوئی بھی عمل اس سے پوشیدہ اور مخفی نہیں۔''
اسے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں فرمانِ باری تعالیٰ: «وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ﴿اور ساری کی ساری زمین قیامت کے دن اُس کی مٹھی میں ہوگی﴾ کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس حدیث میں مذکور اور اس جیسی دیگر باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک یہودیوں میں محفوظ تھیں، انھوں نے ان باتوں کا نہ تو انکار کیا، نہ کوئی تاویل کی۔
تیسرا مسئلہ: جب یہودی عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تصدیق کی اور اس کی مزید تائید کے لیے قرآنِ کریم بھی نازل ہوا۔
چوتھا مسئلہ: جب یہودی عالم نے یہ اہم ترین علمی گفتگو کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔
پانچواں مسئلہ: یہاں اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا پوری صراحت کے ساتھ ذکر ہے اور اس بات کا ذکر ہے کہ سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں زمینیں بائیں ہاتھ میں ہوں گی۔
چھٹا مسئلہ: اللہ تعالیٰ کے بائیں ہاتھ ہونے کی بھی صراحت ہے۔
ساتواں مسئلہ: اُس حالت میں بڑے بڑے سرکشوں اور متکبروں کا ذکر کیا جانا۔
آٹھواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کے مقابلے میں آسمانوں اور زمینوں کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی کے ہتھیلی میں رائی کا دانہ۔
نواں مسئلہ: آسمان کے مقابلے میں کرسی کے بڑے ہونے کا ذکر۔
دسواں مسئلہ: کرسی کے مقابلے میں عرشِ الٰہی کے بڑے ہونے کا ذکر۔
گیارہواں مسئلہ: عرشِ الٰہی، کرسی اور پانی کے علاوہ ایک مستقل چیز ہے۔
بارہواں مسئلہ: ہر دو آسمانوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ اس کا بھی ذکر ہے۔
تیرہواں مسئلہ: ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان کی مسافت کا ذکر ہے۔
چودہواں مسئلہ: کرسی اور پانی کے درمیان کی مسافت بھی بتائی گئی ہے۔
پندرہواں مسئلہ: عرشِ الٰہی پانی کے اوپر ہے۔
سولہواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر مستوی ہے۔
سترہواں مسئلہ: آسمان اور زمین کے درمیان کی مسافت کا ذکر ہے۔
اٹھارہواں مسئلہ: ہر آسمان کی کثافت سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔
سترہواں مسئلہ: ساتویں آسمان کے اوپر جو سمندر ہے، اس کے نیچے اور اوپر کے حصوں کے درمیان بھی پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے۔ واللہ اعلم۔
اللہ کے فضل و کرم سے کتاب التوحید پایۂ تکمیل کو پہنچی۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس