صحیح ﴿بخاری و مسلم﴾ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی ﴿کسی غلام یا کسی شخص سے﴾ یہ نہ کہے کہ 'اپنے رب کو کھانا کھلاؤ'، 'اپنے رب کو وضو کراؤ'، 'اپنے رب کو پانی پلاؤ'۔ بلکہ وہ 'میرا سردار' اور 'میرا آقا' کہے۔اسی طرح تم میں سے کوئی 'میرا بندہ' اور 'میری بندی' نہ کہے، بلکہ 'میرا خادم'، 'میری خادمہ' اور 'میرا غلام' کہے۔''
''تم میں سے کوئی ﴿کسی غلام یا کسی شخص سے﴾ یہ نہ کہے کہ 'اپنے رب کو کھانا کھلاؤ'، 'اپنے رب کو وضو کراؤ'، 'اپنے رب کو پانی پلاؤ'۔ بلکہ وہ 'میرا سردار' اور 'میرا آقا' کہے۔اسی طرح تم میں سے کوئی 'میرا بندہ' اور 'میری بندی' نہ کہے، بلکہ 'میرا خادم'، 'میری خادمہ' اور 'میرا غلام' کہے۔''
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: ﴿اپنے غلام اور لونڈی کو﴾ میرا بندہ اور میری بندی کہنا منع ہے۔
دوسرا مسئلہ: غلام کو بھی اپنے آقا کو 'ربّی' ﴿میرا رب﴾ نہیں کہنا چاہیے۔اسی طرح کسی غلام سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ 'اپنے رب ﴿آقا﴾ کو کھانا پیش کرو۔'
تیسرا مسئلہ: آقا کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ﴿اپنے غلام یا لونڈی کو﴾ میرا خادم، میری خادمہ اور میرا غلام کہے۔
چوتھا مسئلہ: غلام کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اپنے آقا کو 'سیدی ومولای' ﴿میرا سردار اور میرا آقا﴾ کہے۔
پانچواں مسئلہ: مقصود پر تنبیہ کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ الفاظ کے انتخاب میں بھی تحقیق توحید کا پاس ہو۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے
← پچھلا باب
باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم