باب ۱۸ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56]
صحیحین میں ابن مسیّب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی موت کا وقت قریب آیا، تو ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس وقت ان کے پاس عبد اللہ بن ابی امیہ اور ابو جہل بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: "اے چچا جان! کلمہ 'لا الہ الا اللہ' کا اقرار کر لیں، میں آپ کے لیے یہی کلمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بطورِ حجت پیش کروں گا۔"
لیکن ان دونوں نے کہا: کیا تم عبد المطلب کا مذہب چھوڑ دو گے؟
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور اُن دونوں نے بھی دہرائی۔ ایسے میں ابو طالب نے آخر میں یہی کہا کہ وہ عبد المطلب کے مذہب پر قائم ہیں اور انہوں نے کلمہ 'لا الہ الا اللہ' پڑھنے سے انکار کر دیا۔
مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تک مجھے آپ کے حق میں دعا کرنے سے روکا نہیں جاتا، میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔"
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی: ﴿نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔﴾ [سورہ توبہ:۱۱۳]۔ اور ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: "آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔" [سورہ القصص:۵۶]۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ : اس میں آیت کریمہ : ﴿اِنَّکَ لَا تَھۡدِی مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھۡدِی مَنۡ یَّشَآءُ۔﴾ ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔﴾ کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ : نیز اس آیت کی بھی تفسیر ہے: ﴿مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا اَن یَّسۡتَغۡفِرُوا لِلۡمُشۡرِکِینَ۔﴾ ﴿نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں۔﴾
تیسرا مسئلہ : یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور آپ کے فرمان: ﴿قُلۡ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ﴾ کی ایسی تفسیر پر مبنی ہے، جو بہت سے علم کے دعوے داروں کی تفسیر سے الگ ہے۔
چوتھا مسئلہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ابو طالب کو کلمہ 'لا الہ الا اللہ' کی تلقین کر رہے تھے، تو ابو جہل اور اس کے ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو بخوبی سمجھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کا بُرا کرے، جن سے زیادہ اسلام کی بنیاد کے بارے میں ابو جہل جانتا تھا۔
پانچواں مسئلہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کو اسلام کا کلمہ پڑھانے کی پوری کوشش کی۔
چھٹا مسئلہ : اس سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ عبد المطلب اور ان کے آبا و اجداد مسلمان تھے۔
ساتواں مسئلہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے لیے مغفرت کی دعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ اُن کی مغفرت نہیں فرمائی، بلکہ آپ کو آئندہ ایسا کرنے سے منع بھی کر دیا۔
آٹھواں مسئلہ : انسان کو بُرے لوگوں کی صحبت کا نقصان ہوتا ہے۔
نواں مسئلہ : اسلاف اور اکابرین کی تعظیم میں (غلو) نقصان دہ ہے۔
دسواں مسئلہ : اہلِ باطل اس سلسلے میں ابو جہل کے استدلال کی وجہ سے غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں۔
گیارہواں مسئلہ : اعمال کا دار و مدار آخری اعمال پر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ابو طالب نے یہ کلمہ پڑھ لیا ہوتا، تو انہیں ضرور فائدہ ہوتا۔
بارہواں مسئلہ : اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ گمراہ لوگوں کے یہاں اسلاف اور اکابرین کی تعظیم کی کس قدر عزت ہے؛ کیوں کہ ابو طالب کے اس قصہ میں مذکور ہے کہ سرداران مکہ اسی کو دلیل بنا کر ابو طالب سے اپنے سابقہ دین پر اڑے رہنے کا مطالبہ کرتے رہے اور اسی کو کافی جانا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر زور طریقے سے اور بار بار ان کو کلمہ پڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔
← پچھلا باب
باب: شفاعت کا بیان