باب ۳۰ / ۶۷
باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾ [الْوَاقِعَةُ:۸۲]
“اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو”
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میری امت میں جاہلیت کے چار امور ایسے ہیں، جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے: حسب ونسب اور خاندانی فضیلت پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب وخاندان میں عیب اور نقص نکالنا، ستاروں کے اثر سے بارش نازل ہونے کا عقیدہ رکھنااور نوحہ کرنا۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: "نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے، تو قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائی جائے گی کہ اس کے جسم پر تار کول کا کرتا اور خارش میں مبتلا کرنے والی کپڑا ہوگا۔"اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں رات کی بارش کے بعد فجر کی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیرچکے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: «کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟» انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے کچھ بندوں نے ایمان کی حالت میں صبح کی۔کچھ نے کفر کی حالت میں۔جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اوراس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے، وہ مجھ پر ایمان لایا نیز نچھتروں کی تاثیر کا انکار کیا، اور جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش فلان نچھتر کے اثر سے ہوئی ہے، وہ میرا منکر ہوااور نچھتروں کی تاثیر پر ایمان لایا۔"
جب کہ صحیحین ہی میں اسی معنی کی ایک حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جس میں ہے: «بعض لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں نچھتر سچ ثابت ہوئے، یعنی ان کی وجہ سے بارش ہوئی!»
جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں: ﴿فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ * وإنَّهُ لَقَسَمٌ لَّو تَعلَمُونَ عَظِيمٌ * إنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ * فِي كِتَابٍ مَّكْنونٍ * لا يَمَسُّهُ إلاَّ المُطَهَّرُونَ * تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ العَالمينَ * أفَبِهذا الحَديثِ أنتُم مُّدْهِنونَ * وتَجْعَلُونَ رِزْقَكُم أنَّكَم تُكَذِّبُونَ﴾ [الْوَاقِعَةُ:۷۵-۸۲]
“پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے کہ بے شک یہ قرآن بہت معزز ہے، جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے۔اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔پس کیا تم ایسی بات کو سرسری اور معمولی سمجھ رہے ہو؟اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو؟”
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: سورہ واقعہ کی مذکورہ آیتوں کی تفسیر ہوتی ہے۔
دوسرا مسئلہ: ان چار کاموں کا ذکر ہے جو جاہلیت کی رسوم میں سے ہیں۔
تیسرا مسئلہ: ان چار میں سے بعض کفر پر مبنی ہیں۔
چوتھا مسئلہ: کچھ کفر ایسے بھی ہیں، جن کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
پانچواں مسئلہ: فرمانِ الٰہی: «میرے کچھ بچے ایمان کی حالت میں صبح کرتے ہیں اور کچھ بندے کفر کی حالت میں» کا مطلب یہ ہے کہ لوگ دو جماعتوں میں نزول نعمت کے بعد ہوگئے۔
چھٹا مسئلہ: اس جگہ پر ہمیں ایمان کی حقیقت پر خوب غور کرنا چاہیے۔
ساتواں مسئلہ: اس جگہ پر کفر کی حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آٹھواں مسئلہ: آپ کے فرمان: «فلان نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی» کہنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
نواں مسئلہ: آپ کے فرمان «أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ» سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ معلم کو متعلم کے لیے مسئلے کو استفہامی انداز میں پیش کرنے کی اجازت ہے۔
دسواں مسئلہ: نوحہ کرنے والی عورتوں کے حق میں وعید آئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔
← پچھلا باب
باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان