باب ۳۵ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَن يُؤْمِن بِاللهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾ [التَّغَابُنُ:۱۱]
“اور جو اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”
علقمہ کہتے ہیں: «اس سے مراد وہ شخص ہے، جسے کوئی تکلیف پہنچے تو سمجھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ چنانچہ اس پر راضی ہو اور اسے دل سے تسلیم کرے۔»
اور صحیح مسلم میں ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لوگوں میں دو چیزیں کفر ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"
جب کہ صحیحین ہی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانہ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"
ساتھ ہی انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے اس کے گناہ کی سزا دینے سے رکا رہتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔"
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد ہے: "آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے، اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے، تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے، تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو، تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔" ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورہ تغابن کی اُس آیت کی تفسیر ہے ﴿جس میں ہے کہ اللہ مؤمن کے دل کو ہدایت بخشتا ہے۔﴾
دوسرا مسئلہ: ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا بھی ایمان باللہ کا حصہ ہے۔
تیسرا مسئلہ: نسب پر طعن کرنا ﴿کفریہ کام ہے﴾۔
چوتھا مسئلہ: اس شخص کے بارے میں سخت وعید، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانہ جاہلیت کی طرح بین کیا۔
پانچواں مسئلہ: یہاں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے, اس کی کیا علامت ہوتی ہے۔
چھٹا مسئلہ: نیز جس بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے،اُس کی بھی علامت و پہچان بتائی گئی ہے۔
ساتواں مسئلہ: بندے سے اللہ تعالی کی محبت کی بھی نشانی بتائی گئی ہے۔
آٹھواں مسئلہ: تقدیر کے فیصلے پر ناخوش ہونا حرام ہے۔
نواں مسئلہ: آزمائشوں پر راضی رہنے کا بڑا اجر و ثواب ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: ریاکاری کے احکام کا بیان
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔