باب ۵۰ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول)
ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں: «مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ سارے نام جن سے غیر اللہ کی عبدیت کا اظہار ہوتا ہو، حرام ہیں۔ جیسے عبد عمرو اور عبد الکعبہ اور ان سے ملتے جلتے نام۔ البتہ عبد المطلب اس سے مستثنیٰ ہے۔»
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا آیتوں کے بارے میں منقول ہے کہ جب آدم و حوا آپس میں ملے اور حوا حاملہ ہوئیں، تو ابلیس ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ہی تم دونوں کو جنت سے نکلوایا تھا۔ اب تم میری بات مانو، ورنہ میں رحم میں پلنے والے بچے کے سر پر پہاڑی بکرے کے دو سینگ بنا دوں گا، جن کی وجہ سے وہ تمہارا پیٹ چاک کر کے نکلے گا اور میں تمہارے ساتھ ایسا اور ایسا کروں گا! اس طرح وہ انہیں ڈرانے لگا اور ان سے کہنے لگا کہ اس بچے کا نام 'عبد الحارث' رکھنا۔ لیکن ان دونوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اور اللہ کی مرضی کہ ان کا بچہ مرا ہوا پیدا ہوا۔ حوّا دو بارہ امید سے ہوئیں، پھر ابلیس ان کے پاس آیا اور وہی باتیں پھر سے کہیں۔ اس بار بھی انہوں نے اس کی بات نہیں مانی اور اُن کا بچہ مردہ پیدا ہوا۔ اس کے بعد جب وہ تیسری بار حمل سے ہوئیں، تو اُن کے پاس ابلیس آیا اور انہیں پچھلی بات یاد دلائی۔ اس بار اُن پر بچے کی محبت حاوی ہو گئی اور انہوں نے بچے کی ولادت کے بعد اس کا نام عبد الحارث رکھ دیا۔
اسی بارے میں اللہ کا یہ قول ہے: ﴿جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا﴾ ﴿جب اللہ نے انہیں صحیح و تندرست بچہ عطا کر دیا، تو انہوں نے اس میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا﴾
اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔
ابن ابی حاتم ہی نے قتادہ سے بسند صحیح روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں: «آدم و حوّا نے شیطان کو صرف اطاعت میں اللہ کا ساجھی بنایا، اُس کی عبادت نہیں کی تھی۔»
اسی طرح ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿لَئِن آتَيْتَنَا صَالِحًا﴾ کی تفسیر کے ضمن میں بیان کیا ہے: «وہ ڈر گئے کہ کہیں اُن کا بچہ انسان ہی پیدا نہ ہو۔»
ابن ابی حاتم نے حسن بصری اور سعید وغیرہ سے بھی اسی قسم کے اقوال روایت کیے ہیں۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: ہر وہ نام، جس میں عبدیت کی نسبت غیر اللہ کی طرف ہو، حرام ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس باب میں مذکورہ آیتِ کریمہ کی تفسیر۔
تیسرا مسئلہ: مذکورہ بالا قصے میں جس شرک کا ذکر ہے، وہ صرف نام رکھنے کی حد تک تھا۔ اس کا حقیقی مفہوم مقصود نہیں تھا۔
چوتھا مسئلہ: کسی کے ہاں اگر صحیح و تندرست بیٹی کی ولادت ہو، تو یہ بھی اللہ کی بڑی نعمت ہے۔
پانچواں مسئلہ: سلف کا اطاعت میں شرک ﴿شرکِ اطاعت﴾ اور عبادت میں شرک ﴿شرکِ عبادت﴾ کے درمیان فرق بیان کرنا۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50]