باب ۴۱ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83]
مجاہد اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "اس کا مطلب انسان کا یہ کہنا ہے کہ یہ مال تو مجھے باپ دادا سے وراثت میں ملا ہے"۔
عون بن عبد اللہ کا اس کی تفسیر میں یہ کہنا ہے: "لوگوں کہتے ہیں کہ اگر فلاں نہ ہوتا،تو یوں ہو جاتا،".
قتیبہ کا اس کی تفسیر میں یہ کہنا ہے: "لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ چیز ہمارے معبودوں کی سفارش سے ملی ہے".
ابوالعباس علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ زید بن خالد کی اس حدیث کو, جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ «کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کی حالت میں صبح کی ہے اور کچھ نے کفر کی حالت میں...الخ» ذکر کرنے کے بعد، کہتے ہیں: «قرآن و سنت میں بکثرت ایسی آیتیں اور حدیثیں وارد ہیں، جن میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایسے لوگوں کی مذمت کرتا ہے، جو اس کی نعمتوں کی نسبت کسی غیر کی طرف کرتے ہیں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔»
بعض سلف کہتے ہیں: «بہت سے لوگوں کی زبان پر جاری اس طرح کی باتیں کہ ہوا اچھی تھی اور ملاح ماہر تھا وغیرہ وغیرہ، اسی ضمن میں آتی ہیں۔»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس سے اللہ کی نعمتوں کی پہچان اور انکار کی وضاحت ہوتی ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کے انکار پر مبنی باتیں بہت سے لوگوں کی زبان پر مروج ہیں۔
تیسرا مسئلہ: ایسی باتوں کو انکارِ نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
چوتھا مسئلہ: ایک ہی دل میں دو متضاد باتوں ﴿اللہ کی نعمتوں کا انکار واقرار﴾ کا جمع ہونا ثابت ہوتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22]
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان