باب ۴۸ / ۶۷
باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أبِاللهِ وآيَاتِهِ ورسُولِهِ كُنْتُم تَستَهْزِئونَ﴾ [التوبة:۶۵]
“اگر آپ ان سے پوچھیں، تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہاری ہنسی مذاق کے لیے رہ گئے ہیں؟”
ابن عمر، محمد بن کعب، زید بن اسلم اور قتادہ سے روایت ہے۔ ان سب کی روایتیں آپس میں مل گئی ہیں (یعنی ان کے الفاظ قدرے مختلف ہیں مگر مفہوم یہ ہے کہ) غزوۂ تبوک میں ایک ﴿منافق﴾ شخص نے کہا: «ہم نے اپنے ان قراء ﴿علم والوں کے﴾ جیسے پیٹ کے پجاری، زبان کے جھوٹے اور میدانِ جنگ میں سب سے زیادہ بزدل نہیں دیکھے۔» دراصل ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرّاء صحابہ تھے۔ یہ سن کر عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تو جھوٹا اور منافق ہے، میں تیری بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا۔ چنانچہ عوف رضی اللہ عنہ بتانے کی غرض سے آپ کے پاس گئے، مگر ان کے آنے سے پہلے ہی وحی نازل ہو چکی تھی۔ وہ منافق بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (معذرت کے لیے) آ پہنچا۔ دراں حال کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار ہو کر روانہ ہونے کو تھے۔ وہ بولا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تو محض قافلے والوں کے مابین ہونے والی عام باتیں کر رہے تھے، تاکہ سفر کی مشقت ختم کر سکیں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔ گویا وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے کجاوے کی رسی کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور پتھر اس کے پاؤں کو چوٹ پہنچا رہے ہیں اور وہ کہہ رہا ہے: ہم تو محض عام بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں:
﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أبِاللهِ وآيَاتِهِ ورسُولِهِ كُنْتُم تَستَهْزِئونَ﴾ [التوبة:۶۵]
“کیا تم اللہ تعالی، اس کی آیتوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہنسی کرتے ہو؟ تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہو گئے”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو اس کی طرف توجہ دے رہے تھے اور نہ اس سے کچھ زیادہ فرما رہے تھے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: جو اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی اڑائے، وہ کافر ہے۔ یہ ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔
دوسرا مسئلہ: جو بھی ایسا کرے، اس پر یہی حکم لگایا جائے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ یہی اس آیت کی تفسیر ہے۔
تیسرا مسئلہ: چغل خوری اور اللہ اور اس کے رسول کے تئیں خیر خواہی میں فرق ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس میں اللہ کی پسندیدہ چیز عفو و در گزر اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آنے کا فرق بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پانچواں مسئلہ: بعض عذر نا قابل قبول ہوتے ہیں۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50]
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی