ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم اپنے آبا واجداد کی قسمیں نہ کھاؤ۔ جو شخص اللہ کی قسم کھائے اُسے چاہیے کہ سچ بولے اور جس کے لیے اللہ کی قسم کھائی جائے، وہ راضی ہو جائے اور جو اللہ کی قسم پر راضی نہ ہو، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" اسے امام احمد نے بسند حسن روایت کیا ہے۔
"تم اپنے آباواجداد کی قسمیں نہ کھاؤ۔ جو شخص اللہ کی قسم کھائے اُسے چاہیے کہ سچ بولے اور جس کے لیے اللہ کی قسم کھائی جائے، وہ راضی ہو جائے اور جو اللہ کی قسم پر راضی نہ ہو، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" اسے امام احمد نے بسند حسن روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: باپ دادا کی قسم کھانا ممنوع ہے۔
دوسرا مسئلہ: جس کے لیے اللہ کی قسم کھائی جائے، اسے رضامند ہو جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
تیسرا مسئلہ: جو اللہ کی قسم لینے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لیے وعید۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22]