امام مسلم نے صحیح مسلم میں بعض ازواجِ مطہرات سے روایت کیا ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی عرّاف ﴿غیبی امور کی جانکاری کا دعوی کرنے والوں میں سے ایک﴾ کے پاس جا کر کچھ دریافت کیا اور پھر اس کی بتائی ہوئی کسی بات کی تصدیق کی، اس کی چالیس دنوں کی نماز قبول نہیں ہوگی۔“ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کی، اس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے۔“ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
اور ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم کی ایک روایت میں، جسے حاکم نے بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”جو شخص کسی عرّاف یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی، اُس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے۔“
جب کہ ابو یعلیٰ کے یہاں اسی طرح کی روایت جید سند کے ساتھ ابن مسعود سے موقوفًا مروی ہے۔
اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے: ”جس نے بد شگونی لی یا جس کے لئے بد شگونی لیا گیا، یا جس نے کہانت کا پیشہ اختیار کیا یا جس کے لیے کہانت کی گئی، یا جس نے جادو کیا یا جس نے جادو کرایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کاہن کے پاس جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی، اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے دین کا انکار کیا۔“ اسے بزّار نے جیّد سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اسے طبرانی نے بھی ’الأوسط‘ میں حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں: ﴿مَنْ أَتَی کَاهِنًا...﴾ کا حصہ نہیں ہے۔
امام بغوی فرماتے ہیں: عراف سے مراد ایسا شخص ہے، جو غیبی امور کے جاننے کا دعوی کرتا ہے بعض ایسے قرائن سے، جن کے ذریعہ چوری شدہ یا کھوئے ہوئے سامان وغیرہ کی دریافت کے لئے استدلال کرتا ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مراد کاہن ہے اور کاہن اسے کہتے ہیں، جو آنے والوں دنوں سے متعلق غیبی امور کے جاننے کا دعوی کرتا ہے۔
جب کہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ’عرّاف‘ وہ ہے جو دلوں کی بات بتائے۔
علامہ ابو العبّاس ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ﴿عرّاف: کاہن، نجومی، ریت ﴾یا زمین ﴿میں لکیر کھینچنے والے اور ان جیسے لوگوں کو کہتے ہیں، جو ان طریقوں سے چیزوں کی جانکاری کے بارے میں باتیں کرتے ہیں﴾۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسے لوگوں کے بارے میں، جو ابجد لکھتے، اور ستاروں کو دیکھتے ہیں، فرمایا: ﴿میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کرنے والوں کا اللہ کے پاس کوئی حصہ ہے۔﴾
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: قرآن پر ایمان اور کاہن کی تصدیق دونوں باتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔
دوسرا مسئلہ: اس بات کی صراحت کہ کاہن کی باتوں کی تصدیق کرنا کفر ہے۔
تیسرا مسئلہ: کہانت کرانے والے کا بھی تذکرہ۔
چوتھا مسئلہ: جس کے لیے بد شگون لیا جائے اس کا بھی یہاں تذکرہ ہے۔
پانچواں مسئلہ: جس کے لیے جادو کیا جائے اس کا بھی ذکر ہے۔
چھٹا مسئلہ: ﴿اس مقصد سے﴾ ابجد سیکھنے والے کا بھی ذکر ہے۔
ساتواں مسئلہ: کاہن اور عرّاف کے مابین فرق بتایا گیا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس