باب ۳۹ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾
نیز فرمایا: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾ [الْبَقَرَةُ:۱۱]
“اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔”
نیز فرمایا: ﴿وَلاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِهَا وادْعُوهُ خَوفًا وطَمَعًا إنَّ رَحمةَ اللهِ قَريبٌ مِّنَ المحسِنِينَ﴾ [الأَعْرَافُ:۵۶]
“اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کر دی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو، اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔”
نیز فرمایا: ﴿أَفَحُكمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ومَنْ أحسَنُ مِنَ اللهِ حُكْمًا لِقَومٍ يُوقِنُونَ﴾ [الْمَائِدَةُ:۵۰]
“اور یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی اس وقت تک ﴿کامل﴾ مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔"
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «یہ حدیث صحیح ہے اور اسے ہم نے کتاب الحجہ میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے»۔
شعبی کہتے ہیں: «ایک منافق اور ایک یہودی کے بیچ میں کوئی جھگڑا ہو گیا۔» چنانچہ یہودی نے کہا: چلو، ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اُس شخص کو پتہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رشوت نہیں لیتے۔ لیکن منافق نے کہا: ہم یہود کے پاس یہ مسئلہ لے چلتے ہیں۔ اس لیے کہ اُسے پتہ تھا کہ وہ رشوت لیتے ہیں۔ پھر دونوں اس بات پر راضی ہو گئے کہ بنو جہینہ کے ایک کاہن سے فیصلہ کرا لیا جائے، تو یہ آیت ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ﴾ نازل ہوئی: [سورہ النساء:۶۰-۶۲]
ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی، جن کا آپس میں اختلاف ہو گیا تھا۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ پیش کرتے ہیں۔ جب کہ دوسرے نے کہا کہ نہیں یہ معاملہ کعب بن اشرف کے پاس لے چلتے ہیں۔ پھر دونوں معاملہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور اُن میں سے ایک شخص ﴿یہودی﴾ نے سارا ماجرا بیان کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص سے پوچھا، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرانے پر راضی نہیں تھا: کیا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے؟ اُس نے کہا: ہاں! چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار سے اُس کی گردن اُڑا دی۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہاں سورہ النساء کی آیت کی تفسیر ہے، جس سے طاغوت کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس سے سورہ البقرہ کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہوتی ہے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ﴾
تیسرا مسئلہ: اس سے سورہ اعراف کی اس آیت کی بھی تفسیر ہوتی ہے: ﴿وَلاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِهَا﴾
چوتھا مسئلہ: اس میں آیت کریمہ: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ ﴿کیا وہ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟﴾ کی بھی تفسیر ہے۔
پانچواں مسئلہ: پہلی آیت کے شان نزول کے بارے میں شعبی کے قول کی وضاحت ہوتی ہے۔
چھٹا مسئلہ: سچے اور جھوٹے ایمان کی تفسیر کی گئی ہے۔
ساتواں مسئلہ: عمر رضی اللہ عنہ کا منافق کے ساتھ پیش آنے والے قصے کا ذکر ہے۔
آٹھواں مسئلہ: یہاں یہ کہا گیا ہے کہ کسی کو ایمان ﴿کامل﴾ اس وقت تک نصیب نہیں ہوتا، جب اس کی خواہشات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان
← پچھلا باب
باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا