باب ۱۵ / ۶۷
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔
نیز فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ (۱۳) إن تَدْعُوهُمْ لا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا استَجَابُوا لَكُمْ وَيَومَ القِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِركِكُمْ وَلا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِير﴾ [فَاطِر:۱۳،۱۴]
“جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو، وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔ اگر تم انہیں پکارو، تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں، تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کر جائیں گے۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا۔” [سورہ فاطر: ۱۳، ۱۴]۔
اور صحیح میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد میں زخمی ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک رباعی دانت ﴿سامنے کے بعض دانتوں کو عربی میں رباعی دانت کہتے ہیں﴾ ٹوٹ گیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایسی قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے، جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا؟" اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے نبی! اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اختیار نہیں!﴾ [سورہ آل عمران: ۲۸]۔
اور صحیح ہی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ» کہہ چکے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔» جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اے نبی! اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ بھی اختیار نہیں۔﴾ [سورہ آل عمران: ۲۸]۔ جب کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام پر بد دعا فرما رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿اے نبی! اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ بھی اختیار نہیں۔﴾ [سورہ آل عمران: ۲۸]۔
اور صحیح ہی میں ایک دیگر جگہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت کریمہ ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ [الشُّعَرَاء: ۲۱۴] ﴿اے نبی! آپ اپنے قرابت داروں کو ڈرا دیں﴾ نازل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "اے قریش کی جماعت! - یا اس طرح کا کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا - اپنی جانوں کو خرید لو! اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کے ہاں میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ! اللہ کے ہاں میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے میری بیٹی فاطمہ! میرے مال سے جو چاہو مانگ لو، لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔"
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس سے سابقہ دونوں آیتوں ﴿جن میں مخلوق کو پکارنے سے منع کیا گیا ہے﴾ کی تفسیر ہوتی ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس میں جنگ اُحد کا تذکرہ ہے۔
تیسرا مسئلہ: سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صحابہ کا آمین کہنا بھی اس سے ثابت ہوتا ہے۔
چوتھا مسئلہ: جن کے حق میں بد دعا کی گئی ہے، وہ کافر تھے۔
پانچواں مسئلہ: ان کافروں نے ایسے بُرے کام کیے تھے، جو اکثر کافروں نے نہیں کیے تھے؛ مثلاً ان کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کرنا، ان کے قتل کی کوشش کرنا اور مسلمان شہدا کا مُثلہ کرنا وغیرہ، جب کہ وہ مسلمانوں کے رشتے ناطے ہی کے لوگ تھے۔
چھٹا مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے اس بد سلوکی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا کرنے پر یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ﴾ ﴿اے نبی! اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اختیار نہیں۔﴾۔
ساتواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کا اس فرمان: ﴿اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ﴾ ﴿کہ اللہ تعالیٰ ان کفار کو معافی دے دے گا یا انہیں عذاب دے دے گا﴾ کے بارے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا اور وہ ایمان لے آئے۔
آٹھواں مسئلہ: حادثات کے وقت قنوتِ نازلہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔
نواں مسئلہ: نماز کے دوران قنوتِ نازلہ میں کسی مخصوص شخص اور اس کے آبا واجداد کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔
دسواں مسئلہ: قنوتِ نازلہ میں کسی معین شخص کا نام لے کر اس پر لعنت بھیجنا جائز ہے۔
گیارہواں مسئلہ: یہاں ان باتوں کا بھی ذکر ہے، جن کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے ایک ایک آدمی کو بلا کر اس آیت کے نزول کے بعد یقین دہانی کرائی: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ ﴿اور آپ اپنے قرابت داروں کو عذابِ الٰہی سے ڈرا دیں!﴾
بارہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت کی خاطر اس حد تک تگ ودو کی کہ آپ کو مجنوں تک کہا گیا اور یہی حال آج بھی ہوتا ہے، جب کوئی مسلمان اس کام کو انجام دیتا ہے۔
تیرہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریبی اور دور کے، دونوں طرح کے قرابت داروں سے فرما دیا: «میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بالکل بچا نہیں سکتا۔» یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہہ دیا: "اے فاطمہ بنتِ محمد! میں اللہ کے ہاں تمہارے بھی کسی کام نہیں آسکتا!"۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدالمرسلین ہونے کے باوجود سارے جہان کی خواتین کی سردار سے فرمائیں کہ میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا اور انسان کا اس بات پر ایمان بھی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق کے سوا کچھ نہیں کہتے، اور اس کے بعد وہ موجودہ حالات کا جائزہ لے اور خواص الناس کے دلوں میں واقع پذیر چیز کے بارے میں غور و فکر کرے، تو اس کے سامنے توحید خالص کا ترک اور دین کی اجنبیت عیاں ہو جاتی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23]
← پچھلا باب
باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے