باب ۷ / ۶۷
باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أوْ أرَادَنِي بِرَحمَةٍ هلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِيَ اللهُ عَلَيهِ يَتوكَّلُ المُتَوكِّلُونَ﴾ [الزُّمَر:۳۸]
“اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ مجھے نقصان پہنچانا چاہے، تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے، تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔”
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا چھلہ ﴿کڑا﴾ دیکھا، تو فرمایا: "یہ کیا ہے؟" اُس نے کہا کہ یہ ﴿﴿واہنہ﴾﴾ ﴿ایک قسم کی بیماری﴾ کی وجہ سے پہنا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے اتار دو۔ کیوں کہ یہ تمہاری بیماری میں اضافہ ہی کرے گا۔ اگر اسے پہنے ہوئے تم مر گئے، تو کبھی فلاح یاب نہیں ہو گے۔" اسے امام احمد نے ایسی سند سے روایت کیا ہے، جس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسند احمد ہی میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے: "جس نے تعویذ لٹکایا، اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جس نے سیپ وغیرہ لٹکائی، اللہ اسے آرام و سکون نہ دے۔" ایک دوسری روایت میں ہے: "جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔"
ابن ابی حاتم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں بخار کی وجہ سے دھاگہ باندھا ہوا دیکھا، تو اسے کاٹ ڈالا اور یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِاللهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِكُون﴾ [يوسف:۱۰۶]
“ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں۔”
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: کڑے، چھلّے، دھاگے اور اس قسم کی دیگر چیزیں اس طرح کے مقاصد کے لئے پہننا سخت ممنوع ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ صحابی بھی اس حالت میں مر جاتے کہ وہ چھلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا، تو وہ بھی فلاح یاب نہ ہوتے۔ اس میں صحابہ کے اس موقف کا ٹھوس ثبوت ہے کہ 'شرک اصغر ﴿شرک اکبر کے علاوہ﴾' تمام کبائر سے ہے۔
تیسرا مسئلہ: جہالت کی وجہ سے بھی ان امور کے مرتکب کو معذور نہیں سمجھا جائے گا۔
چوتھا مسئلہ: ایسی چیزیں دنیا میں بھی مفید نہیں بلکہ مضر ہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ﴿﴿یہ تمہاری بیماری کو بڑھانے کے سوا کچھ نہ کرے گا۔﴾﴾
پانچواں مسئلہ: ایسی چیزوں کو استعمال کرنے والے شخص کو سختی سے روکنا چاہیے۔
چھٹا مسئلہ: یہاں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ جس نے کوئی چیز لٹکائی اسے اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
ساتواں مسئلہ: اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔
آٹھواں مسئلہ: بخار وغیرہ کی وجہ سے دھاگہ پہننا اسی شرکیہ عمل میں سے ہے۔
نواں مسئلہ: حذیفہ رضی اللہ عنہ کا آیت پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام شرکِ اکبر کی آیات سے شرکِ اصغر پر بھی استدلال کیا کرتے تھے، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا ہے۔
دسواں مسئلہ: نظرِ بد سے بچاؤ کے لیے سیپ باندھنا بھی یہی شرکیہ عمل ہے۔
گیارہواں مسئلہ: تعویذ اور سیپ لٹکانے والے کو یہ بد دعا دی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے اور اسے آرام نہ دے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان
← پچھلا باب
باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب