اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يُوفُونَ بِالنَّذْر ويخَافُونَ يَومًا كانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا﴾ [الإِنْسَان:۷]
“جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں، جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔”
نیز فرمایا: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُهُ﴾ [الْبَقَرَة:۲۷۰]
“تم جتنا کچھ خرچ کرو اور جو کچھ نذر مانو، اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے۔”
اور صحیح بخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی، وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔"
اس باب کے اہم مسائل
پہلا مسئلہ: نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔
دوسرا مسئلہ: جب یہ ثابت ہو گیا کہ نذر بھی اللہ کی عبادت میں شامل ہے، تو اسے غیر اللہ کے لیے ماننا اور پورا کرنا سراسر شرک ہوگا۔
تیسرا مسئلہ: اللہ کی نافرمانی پر مبنی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے
← پچھلا باب
باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں