Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۱۰ / ۶۷

باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۱۶۲) لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وأنَا أولُ المُسْلِمِينَ﴾ [الأَنْعَام:۱۶۲،۱۶۳]

“آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔”

نیز فرمایا: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [الْكَوْثَر:۲]

“پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔”

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چار باتیں بتلائیں: "جو شخص غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص حدودِ زمین کے نشانات کو بدلے، اُس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ایک شخص ایک مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا اور ایک شخص ایک مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔"

صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے، جن کا ایک بُت تھا، وہ کسی کو بھی وہاں سے چڑھاوا چڑھائے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔

اس قوم کے لوگوں نے ان دونوں میں سے ایک شخص سے کہا: کچھ چڑھاوا چڑھا دو۔

اس نے کہا: میرے پاس چڑھاوے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: کچھ چڑھا دو، ایک مکھی ہی سہی۔ چنانچہ اُس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھا دیا، تو اُن لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ اس ایک مکھی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔

اب ان لوگوں نے دوسرے شخص سے کہا: تم بھی کچھ چڑھا دو۔

اُس نے کہا: میں اللہ عزّوجلّ کے سوا کسی اور کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس کی گردن اُڑا دی۔ چنانچہ وہ جنت میں داخل ہو گیا۔" اسے احمد نے روایت کیا ہے۔

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: یہاں آیت کریمہ ﴿اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی﴾ الخ ﴿میری نماز اور میری قربانی﴾ کی تفسیر کی گئی ہے۔

دوسرا مسئلہ: آیت کریمہ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾ ﴿پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں، اور قربانی کریں﴾ کی تفسیر کی گئی ہے۔

تیسرا مسئلہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر لعنت کرنے والے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔

چوتھا مسئلہ: جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اُس پر بھی لعنت بھیجی جا سکتی ہے۔ نیز اسی حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کسی کے والدین پر لعنت کریں، تو جواب میں وہ بھی آپ کے والدین پر لعنت کرے۔ ﴿اس لیے کہ آپ اس کا سبب بن رہے ہیں۔﴾

پانچواں مسئلہ: جو کسی بدعتی کو پناہ دے وہ ملعون ہے۔ بدعتی سے مراد ایسا شخص ہے، جو کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا واجب ہو، چنانچہ وہ اس سے بچنے کے لیے کسی کی پناہ ڈھونڈے۔

چھٹا مسئلہ: جو شخص حدودِ زمین کی نشانیوں کو بدلنے کا کام کرے، وہ بھی لعنتی ہے۔ اس سے ایسے نشانات مراد ہیں، جو آپ اور آپ کے پڑوسی کی حدودِ ملکیت کو متعین کرتے ہیں، تو ان نشانات کو آگے یا پیچھے کر کے بدلنا لعنت کا کام ہے۔

ساتواں مسئلہ: کسی خاص شخص پر اور عمومی طور پر گناہ گار لوگوں پر لعنت کرنے میں فرق ہے۔

آٹھواں مسئلہ: یہ مکھی والا واقعہ بڑا غیر معمولی قصہ ہے۔

نواں مسئلہ: مکھی کا چڑھاوا چڑھانے والا جہنم رسید کر دیا گیا، حالاں کہ اُس نے شرک کے مقصد سے ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ اس کا مقصد ان لوگوں کے شر سے بچنا تھا۔

دسواں مسئلہ: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان والوں کے دلوں میں شرک کتنا سنگین جرم ہے کہ اس نے قتل ہونا گوارا کر لیا، لیکن ان کے مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ حالاں کہ ان کا مطالبہ محض ایک ظاہری عمل کا تھا۔

گیارہواں مسئلہ: جہنم میں جانے والا شخص بھی مسلمان تھا۔ اس لیے کہ اگر وہ کافر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہتے: ﴿وہ ایک مکھی کی وجہ سے جہنم رسید ہو گیا﴾۔

بارہواں مسئلہ: اس حدیث سے ایک دیگر صحیح حدیث کی تائید ہوتی ہے، جو یہ ہے: "جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"

تیرہواں مسئلہ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قلبی عمل ہر ایک کے نزدیک، یہاں تک کہ بُت پرستوں کے یہاں بھی سب سے اہم اور مقصودِ اعظم ہے۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app