اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۱۶۲) لاَ شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وأنَا أولُ المُسْلِمِينَ﴾ [الأَنْعَام:۱۶۲،۱۶۳]
“آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔”
نیز فرمایا: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [الْكَوْثَر:۲]
“پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چار باتیں بتلائیں: "جو شخص غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص اپنے والدین پر لعنت کرے، اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ جو شخص حدودِ زمین کے نشانات کو بدلے، اُس پر بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ایک شخص ایک مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا اور ایک شخص ایک مکھی ہی کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔"
صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دو لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے، جن کا ایک بُت تھا، وہ کسی کو بھی وہاں سے چڑھاوا چڑھائے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔
اس قوم کے لوگوں نے ان دونوں میں سے ایک شخص سے کہا: کچھ چڑھاوا چڑھا دو۔
اس نے کہا: میرے پاس چڑھاوے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: کچھ چڑھا دو، ایک مکھی ہی سہی۔ چنانچہ اُس نے ایک مکھی کا چڑھاوا چڑھا دیا، تو اُن لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ اس ایک مکھی کی وجہ سے جہنم میں جا پہنچا۔
اب ان لوگوں نے دوسرے شخص سے کہا: تم بھی کچھ چڑھا دو۔
اُس نے کہا: میں اللہ عزّوجلّ کے سوا کسی اور کے واسطے کوئی چڑھاوا نہیں چڑھا سکتا۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس کی گردن اُڑا دی۔ چنانچہ وہ جنت میں داخل ہو گیا۔" اسے احمد نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہاں آیت کریمہ ﴿اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی﴾ الخ ﴿میری نماز اور میری قربانی﴾ کی تفسیر کی گئی ہے۔
دوسرا مسئلہ: آیت کریمہ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾ ﴿پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں، اور قربانی کریں﴾ کی تفسیر کی گئی ہے۔
تیسرا مسئلہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے غیر اللہ کے نام پر لعنت کرنے والے شخص پر لعنت فرمائی ہے۔
چوتھا مسئلہ: جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اُس پر بھی لعنت بھیجی جا سکتی ہے۔ نیز اسی حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ آپ کسی کے والدین پر لعنت کریں، تو جواب میں وہ بھی آپ کے والدین پر لعنت کرے۔ ﴿اس لیے کہ آپ اس کا سبب بن رہے ہیں۔﴾
پانچواں مسئلہ: جو کسی بدعتی کو پناہ دے وہ ملعون ہے۔ بدعتی سے مراد ایسا شخص ہے، جو کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا واجب ہو، چنانچہ وہ اس سے بچنے کے لیے کسی کی پناہ ڈھونڈے۔
چھٹا مسئلہ: جو شخص حدودِ زمین کی نشانیوں کو بدلنے کا کام کرے، وہ بھی لعنتی ہے۔ اس سے ایسے نشانات مراد ہیں، جو آپ اور آپ کے پڑوسی کی حدودِ ملکیت کو متعین کرتے ہیں، تو ان نشانات کو آگے یا پیچھے کر کے بدلنا لعنت کا کام ہے۔
ساتواں مسئلہ: کسی خاص شخص پر اور عمومی طور پر گناہ گار لوگوں پر لعنت کرنے میں فرق ہے۔
آٹھواں مسئلہ: یہ مکھی والا واقعہ بڑا غیر معمولی قصہ ہے۔
نواں مسئلہ: مکھی کا چڑھاوا چڑھانے والا جہنم رسید کر دیا گیا، حالاں کہ اُس نے شرک کے مقصد سے ایسا نہیں کیا تھا، بلکہ اس کا مقصد ان لوگوں کے شر سے بچنا تھا۔
دسواں مسئلہ: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان والوں کے دلوں میں شرک کتنا سنگین جرم ہے کہ اس نے قتل ہونا گوارا کر لیا، لیکن ان کے مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ حالاں کہ ان کا مطالبہ محض ایک ظاہری عمل کا تھا۔
گیارہواں مسئلہ: جہنم میں جانے والا شخص بھی مسلمان تھا۔ اس لیے کہ اگر وہ کافر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہتے: ﴿وہ ایک مکھی کی وجہ سے جہنم رسید ہو گیا﴾۔
بارہواں مسئلہ: اس حدیث سے ایک دیگر صحیح حدیث کی تائید ہوتی ہے، جو یہ ہے: "جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔"
تیرہواں مسئلہ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قلبی عمل ہر ایک کے نزدیک، یہاں تک کہ بُت پرستوں کے یہاں بھی سب سے اہم اور مقصودِ اعظم ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں
← پچھلا باب
باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا