اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿أَلا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ﴾ [النَّمْلُ:۴۷]
“تمہاری بد شگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو”
نیز فرمایا: ﴿قَالُواْ طَائِرُكُم مَّعَكُمْ أَإِن ذُكِّرْتُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ﴾ [يَس:۱۹]
“انھوں نے کہا کہ تمہاری بد شگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بیماری ﴿خود سے﴾ متعدی نہیں ہوتی, بدشگونی کوئی چیز نہیں، الو کی نحوست نہیں ہوتی اور ماہ صفر بھی منحوس نہیں ہوتا۔" اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور امام مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: «نچھتر اور بھوتوں والے عقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔»
اور صحیحین ہی میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بیماری کا ﴿خود سے﴾ ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں، جب کہ مجھے فال اچھی لگتی ہے۔" صحابہ کرام نے پوچھا کہ فال کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: "اچھی بات"۔
جب کہ امام ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بد شگونی کا تذکرہ ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان سب میں بہتر فال ﴿نیک شگون﴾ ہے اور یہ بد شگونی کسی مسلمان کو ﴿اس کے مقصد سے﴾ باز نہیں رکھ سکتی۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے، تو یہ دعا کرے: ﴿اللَّهُمَّ لاَ يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلاَّ أَنْتَ، وَلاَ يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلاَّ أَنْتَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِكَ﴾ «یا اللہ تیرے سوا کوئی بھلائیاں نہیں لاسکتا اور تیرے سوا کوئی برائیوں کو دور نہیں کر سکتا اور تیری توفیق کے بغیر ہمیں نہ بھلائی کی طاقت ہے اور نہ برائی سے بازر ہنے کی ہمت ہے»۔"
اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے: "بدشگونی لیناشرک ہے۔ بدشگونی لیناشرک ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے دل میں بد شگونی جنم لیتی ہے، مگر توکل کی وجہ سے اللہ تعالی اسے ختم کردیتا ہے۔" اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔ البتہ انھوں نے آخری جملے کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔
اور امام احمد نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے: "جس شخص نے بد شگونی کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ دیا، اس نے شرک کیا۔" لوگوں نے دریافت کیا کہ اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ» ﴿اس کا کفارہ یہ ہے کہ﴾ تم یوں کہو: «اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں»۔
اور مسند احمد ہی میں فضل بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے: «بدشگونی وہ ہے، جو تجھے کسی کام کے کرنے پر آمادہ کرے یا اس سے روک دے»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہاں فرمان الٰہی «أَلاَ إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللهِ» نیز «طَائِرُكُمْ مَّعَكُمْ» کی وضاحت کی گئی ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس میں امراض کے ﴿خود سے﴾ متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے۔
تیسرا مسئلہ: بد شگونی کی بھی نفی کی گئی ہے۔
چوتھا مسئلہ: 'ھامہ' ﴿الو کی آواز سے بد شگونی لینے﴾ کی نفی کی گئی ہے۔
پانچواں مسئلہ: 'صفر' ﴿ماہ صفر کی نحوست﴾ کی بھی نفی ہے۔
چھٹا مسئلہ: تاہم نیک شگون لینا اس ممانعت میں شامل نہیں ہے، بلکہ یہ جائز ہے۔
ساتواں مسئلہ: یہاں نیک شگون ﴿فال﴾ کے معنی کی وضاحت کی گئی ہے۔
آٹھواں مسئلہ: اگر نہ چاہتے ہوئے بھی بد شگونی کے وساوس دل میں پیدا ہو جائیں، تو اس میں کوئی ضرر نہیں، بلکہ یہ اللہ پر توکل کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں۔
نواں مسئلہ: جس کے دل میں اس طرح کے وسوسے پیدا ہوں، وہ یہ دعا پڑھ لے: «اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ»۔
دسواں مسئلہ: اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ بد شگونی شرک ہے۔
گیارہواں مسئلہ: یہاں مذموم بد شگونی کی توضیح کی گئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس