اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلاَ تَدْعُ مِن دُونِ اللهِ مَا لاَ يَنفَعُكَ وَلاَ يَضُرُّكَ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ الظَّالِمِينَ (۱۰۶) وَإِن يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍّ فَلاَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيرٍ فَلا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ [يُونُس:۱۰۶،۱۰۷]
“اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا، جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا، تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے، تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے، تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دے اور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والا ہے۔”
نیز فرمایا: ﴿فَابْتَغُواْ عِندَ اللهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِليهِ تُرْجَعُونَ﴾ [الْعَنْكَبُوت:۱۷]
“پس تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو۔ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔”
نیز فرمایا: ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُم عَن دُعَائِهِم غَافِلونَ (۵) وَإِذا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ﴾ [الأَحْقَاف:۵،۶]
“اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا، جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے، جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں، بلکہ ان کے پکارنے سے محض بے خبر ہوں۔ اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا، تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے۔”
نیز فرمایا: ﴿أمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعلُكُمْ خُلَفَاءَ الأَرْضِ أَإِلهٌ مَعَ اللهِ﴾ [النَّمْل:۶۲]
“کون ہے، جو بے کس کی پکار کو، جب وہ پکارے، قبول کرکے پریشانی کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے؟”
طبرانی نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک منافق تھا، جو مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچایا کرتا تھا۔ چنانچہ چند صحابہ نے کہا کہ: چلو اس منافق سے گلو خلاصی کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ ﴿فریاد طلب﴾ کرتے ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! مجھ سے فریاد نہیں کی جا سکتی، بلکہ فریاد صرف اللہ سے کی جاتی ہے۔“
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہاں استغاثہ پر دعا کا عطف، خاص پر عام کے عطف کے قبیل سے ہے۔ ﴿مطلب یہ ہے کہ دعا عام ہے اور استغاثہ خاص۔﴾
دوسرا مسئلہ: اس سے آیت کریمہ: ﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ﴾ ﴿اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے﴾ کی تفسیر ہوتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: غیر اللہ کو پکارنا شرک اکبر ہے۔
چوتھا مسئلہ: اگر کوئی انتہائی برگزیدہ ترین شخص بھی غیر اللہ کی رضامندی کے حصول کے لیے اسے پکارے، تو وہ بھی ظالموں میں شمار ہوگا۔
پانچواں مسئلہ: اس سے ﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللّٰہِ﴾ کے بعد والی آیت کی بھی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔
چھٹا مسئلہ: غیر اللہ کو پکارنا کفر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں مفید بھی نہیں ہے۔
ساتواں مسئلہ: اس سے تیسری آیت: ﴿فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ﴾ کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔
آٹھواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے روزی مانگنا بالکل اسی طرح نامناسب عمل ہے، جس طرح اس کے سوا کسی اور سے جنت مانگنا۔
نواں مسئلہ: اس سے چوتھی آیت کریمہ: ﴿وَمَنْ أَضَلُّ﴾ کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔
دسواں مسئلہ: اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ غیر اللہ کو پکارنے والے سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ نہیں ہو سکتا۔
گیارہواں مسئلہ: اللہ کے سوا جنہیں پکارا جاتا ہے، وہ پکارنے والے کی پکار سے غافل ہیں ﴿اور انہیں معلوم ہی نہیں کہ کوئی انہیں پکار رہا ہے﴾۔
بارہواں مسئلہ: وہ لوگ جنہیں پکارا جاتا ہے، اسی پکار کی وجہ سے، قیامت کے دن پکارنے والوں کے دشمن ہو جائیں گے۔
تیرہواں مسئلہ: غیر اللہ کو پکارنے کو ان کی عبادت سے موسوم کیا گیا ہے۔
چودہواں مسئلہ: جن کو پکارا جاتا ہے، وہ ﴿قیامت کے دن﴾ اس ﴿پکار﴾ ﴿عبادت﴾ کا انکار کر دیں گے۔
پندرہواں مسئلہ: یہ ساری چیزیں غیر اللہ کو پکارنے والے کو گمراہ ترین شخص بنا دیتی ہیں۔
سولہواں مسئلہ: اس سے پانچویں آیت: ﴿أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ﴾ کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔
سترہواں مسئلہ: سب سے حیران کن بات تو یہ ہے کہ بُتوں کی پوجا کرنے والے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پریشان حال کی حاجت روائی صرف اللہ ہی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مصیبت کے وقت صرف اللہ کو پکارتے ہیں، اس کے لئے اپنی دعا کو خالص کرتے ہوئے۔
اٹھارہواں مسئلہ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی مکمل حفاظت فرمائی ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ادب واحترام کی تعلیم دی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔
← پچھلا باب
باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے