اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأَمْـرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَـاهُنَا﴾ [آل عِمْرَانَ:۱۵۴]
“وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔”
نیز فرمایا: ﴿الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا﴾ [آل عِمْرَانَ:۱۶۸]
“یہ وہ لوگ ہیں جو خود بیٹھے رہے او راپنے بھائیوں کی بابت کہا کہ اگر یہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔”
صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو چیز تمہیں نفع پہنچانے والی ہو، اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تمہیں کوئی مصیبت آن پہنچے، تو یوں نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا، تو ایسا اور ایسا ہو جاتا، بلکہ یوں کہو: ﴿قَدَّرَ اللہُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ﴾ کہ اللہ نے مقدر کیا اور جو چاہا کیا؛ کیوں کہ لفظ 'اگر' شیطان کی در اندازی کا دروازہ کھولتا ہے۔"
اس باب کے کچھ اہم مسائل
اس میں سورہ آل عمران کی مذکورہ دو آیتوں کی تفسیر ہے۔
کوئی پریشانی لاحق ہوتے وقت 'اگر' کہنے سے واضح لفظوں میں منع کیا گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
اچھی بات کرنے کی رہنمائی کی گئی ہے۔
مفید کاموں کے لیے کوشاں رہنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس کے برخلاف کام یعنی عاجز بن کر بیٹھ رہنے سے منع کیا گیا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت
← پچھلا باب
باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔