باب ۶۵ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! لوگ کمزور ہوگئے، بچے بھوک سے بے تاب ہو اٹھے اور مال تباہ ہوگئے۔ لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجیے۔ ہم اللہ کو آپ کے پاس اور آپ کو اللہ کے در بار میں سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کی بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی ذات پاک ہے،اللہ کی ذات پاک ہے!! آپ برابر اللہ کی پاکی بیان کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کے اثرات آپ کے ساتھیوں کے چہروں پر نظر آنے لگے۔ پھر فرمایا: ''تمہارا برا ہو، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کون ہے؟ اللہ کی شان اس سے کہیں بڑی ہے۔ اللہ کو کسی کے پاس سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔" اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نکیر فرمائی، جس نے کہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو آپ کے پاس سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس طرح بدل گیا کہ اس کے اثرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے چہروں پر بھی دیکھے گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ﴿بدو﴾ کی اس بات پر کہ "ہم آپ کو اللہ کے یہاں بطور سفارشی پیش کرتے ہیں" نکیر نہیں فرمائی۔
«سُبحانَ الله» کے مفہوم اور تفسیر پر بھی تنبیہ ہوئی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کی درخواست کیا کرتے تھے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا
← پچھلا باب
باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم