قتیلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ لوگ شرک کرتے ہیں؛ کیوں کہ آپ لوگ "جو اللہ چاہے اور تم چاہو" اور "کعبہ کی قسم" کہتے ہیں۔
چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ جب قسم کھانی ہو تو کہیں: "کعبہ کے رب کی قسم" اور یہ کہیں کہ "جو اللہ چاہے اور پھر جو آپ چاہیں"۔ اسے امام نسائی اور صحیح کہا ہے۔ اور سنن نسائی ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ "جو اللہ چاہیں اور آپ چاہیں!" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ہے؟! ﴿محض اتنا کہا کہو کہ﴾ جو صرف اللہ چاہے"۔
اور سنن ابن ماجہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: «میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرا گزر یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا۔ میں نے ان سے کہا: تم اچھے لوگ ہو، اگر عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ کہو۔» اس پر انہوں نے جواب دیا: تم بھی اچھے ہو اگر «جو اللہ چاہے اور جو محمد چاہیں» نہ کہو۔ اس کے بعد میرا گزر کچھ نصرانیوں کے پاس سے ہوا۔ میں نے کہا: تم اچھے لوگ ہو، اگر مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا نہ کہو۔ اس پر انہوں نے جواب دیا: تم بھی اچھے ہو اگر «جو اللہ چاہے اور جو محمد چاہیں» نہ کہو۔ صبح ہوئی، تو میں نے یہ خواب کچھ لوگوں کو بتایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا ماجرا کہہ سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کیا تم نے یہ خواب کسی کو بتایا بھی ہے؟» میں نے کہا: جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی، اس کے بعد "اما بعد" کہا اور فرمایا: ((طفیل نے خواب دیکھا ہے اور انہوں نے کچھ لوگوں سے اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ دراصل تم ایک جملہ بولا کرتے ہو، جس سے میں تمہیں فلاں فلاں باتوں کی وجہ سے روک نہ سکا۔ لیکن اب «جو اللہ چاہے اور محمد چاہے» نہ کہو، بلکہ یہ کہو کہ جو صرف اللہ چاہے۔))
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہود شرکِ اصغر سے بھی واقف تھے۔
دوسرا مسئلہ: اگر انسان کے اندر خواہش ہو، تو وہ صحیح اور غلط کو سمجھ سکتا ہے۔
تیسرا مسئلہ: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے «جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں» کہنے پر ناگواری جتاتے ہوئے فرمایا کیا تم نے مجھے اللہ کا شریک بنا دیا؟ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا، جو یہ کہتے ہیں: «مَالِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ سِوَاكَ» کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی میں پناہ حاصل کر سکوں، ساتھ ہی اس کے بعد کے دو مصرعے بھی پڑھتے ہیں؟؟
چوتھا مسئلہ: یہ 'شرکِ اکبر' میں داخل نہیں ہے، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں کہتے کہ «مجھے تمہیں اس سے روکنے سے یہ یہ چیز مانع رہی»۔
پانچواں مسئلہ: اچھا خواب بھی وحی کی ایک قسم ہے۔
چھٹا مسئلہ: اچھا خواب کبھی کبھار بعض احکام کی مشروعیت کی وجہ بن جاتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی
← پچھلا باب
باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان