باب ۲۱ / ۶۷
باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔
امام مالک نے اپنی کتاب 'المؤطأ' میں روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوا، جنھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔" ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ سفیان سے، انہوں نے منصور سے روایت کیا ہے کہ مجاھد نے آیت کریمہ
﴿أَفَرَأَيْتُمُ اللاَّتَ وَالْعُزَّى﴾ [النَّجْمُ:۱۹]
﴿أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ﴾ ﴿کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا؟﴾
کے بارے میں فرمایا: کہ : «لاتُ حاجیوں کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا۔ جب اُس کا انتقال ہو گیا، تو لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے۔»
اسی طرح ابوالجوزاء بھی ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں : «لات حاجیوں کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا۔»
ساتھ ہی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، ان پر مسجد بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اسے اہلِ سنن نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ : اوثان ﴿بُتوں﴾ کی تشریح و توضیح ملتی ہے۔
دوسرا مسئلہ : عبادت و بندگی کی بھی تشریح ملتی ہے۔
تیسرا مسئلہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انھیں چیزوں سے پناہ مانگی ہے، جن کے وقوع پذیر ہونے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدشہ تھا۔
چوتھا مسئلہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا ﴿اے اللہ! میری قبر کو بُت نہ بنانا جس کی پوجا کی جائے﴾ کو پہلے لوگوں کے ذریعہ نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنانے سے جوڑ دیا ہے۔
پانچواں مسئلہ : یہاں اللہ تعالیٰ کے شدید غضب کا ذکر ہے۔
چھٹا مسئلہ : ایک اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اہلِ عرب کے ایک بڑے بُت 'لات' کی عبادت کس طرح شروع ہوئی، اسے بیان کیا گیا ہے۔
ساتواں مسئلہ : اس بات کا علم ہوا کہ 'لات' ایک بزرگ کی قبر تھی۔
آٹھواں مسئلہ : لات دراصل صاحب قبر کا نام تھا اور اسے لات حاجیوں کو ستو گھول کر پلانے کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔
نواں مسئلہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
دسواں مسئلہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر چراغاں کرنے والوں پر بھی لعنت فرمائی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان
← پچھلا باب
باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟