امام احمد کہتے ہیں: ہم سے حدیث بیان کی محمد بن جعفر نے، اُن سے عوف نے، اُن سے حیان بن علاء نے، اُن سے قطن بن قبیصہ نے، جو اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "عیافہ، طرق اور براشگونِ لینا، ان سب کا شمار جادو میں ہوتا ہے۔"
عوف کہتے ہیں: عیافہ کا مطلب ہے پرندوں کو اُڑا کر فالِ بد لینا اور طرق کے معنی ہیں زمین پر لکیر کھینچنا۔
جب کہ 'جِبْتُ' کے بارے میں حسن بصری کہتے ہیں کہ اس سے مراد شیطان کی پُکار ہے۔
اس کی سند جید ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اس کا صرف مرفوع حصہ روایت کیا ہے۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "جس نے علمِ نجوم کا کچھ حصہ سیکھا، اس نے اسی قدر جادو سیکھا۔ پھر وہ جتنا زیادہ علم نجوم سیکھتا جائے گا، اُتنا ہی جادو کے علم میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔" اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
اور سنن نسائی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "جس نے گرہ باندھ کر اس پر پھونک ماری، اُس نے جادو کا عمل کیا اور جس نے سحر کیا، وہ شرک کا مرتکب ہوا۔ اور جس نے اپنے بازو، گلے، ہاتھ وغیرہ پر کوئی چیز باندھی یا لٹکائی، اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔"
اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ 'عَضْہٗ' کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد چغلی ہے اور جو لوگوں کے درمیان لگائی بجھائی کرنا ہے۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بعض بیان یقینا جادو ہوتا ہے۔"
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: عیافہ، طرق اور شگونِ بد لینا، ان سب کا شمار جادو میں ہوتا ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس باب سے عیافہ، طرق اور طیرہ کی وضاحت ہوتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: علم نجوم بھی جادو کی ایک قسم ہے۔
چوتھا مسئلہ: گرہ لگا کر اُس میں پھونک مارنا بھی جادو ہے۔
پانچواں مسئلہ: چغل خوری بھی ایک طرح کا جادو ہے۔
چھٹا مسئلہ: بعض فصیح و بلیغ کلام بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس