اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادوهُمْ رَهَقًا﴾ [الْجِن:۶]
“بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے، جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گئے”
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص کسی جگہ پڑاؤ کرے اور یہ دعا پڑھ لے: ﴿أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ، "میں اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کے شر سے اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں"، تو اُس کے وہاں سے کوچ کرنے تک اُسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورۂ جن کی آیت کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنوں کی پناہ لینا شرک ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس مسئلے پر مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کیا جا سکتا ہے؛ کیوں کہ علماء نے اس سے اس بنیاد پر استدلال کیا ہے کہ اللہ کے کلمات مخلوق نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ایسا اس لیے کہ مخلوق سے پناہ مانگنا شرک ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس مختصر ترین دعا کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
پانچواں مسئلہ: کسی چیز سے دنیوی منفعت کا حصول، مثلاً کسی بُرائی سے تحفظ یا کسی فائدے کا حصول، اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ شرک نہیں ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے
← پچھلا باب
باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے