اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ (۱۵) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [هُودٌ:۱۵، ۱۶]
“جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو، ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال کا بدلہ یہیں بھر پور پہنچادیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں یہی وہ لوگ ہیں، جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا، وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کے اعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں”
اور صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "دینا کا بندہ اور درہم کا بندہ ہلاک ہو! ریشمی اور اونی چادر کا بندہ تباہ ہو! اور روئیں دار کپڑے کا بندہ بھی تباہ ہو! اگر اس کو کچھ دیا جائے، تب تو خوش۔ لیکن جب نہ دیا جائے، تو غصہ ہو جائے۔ ایسا شخص تباہ اور سرنگوں ہو۔ جب اس کو کانٹا لگے، تو اللہ کرے پھر نہ نکلے۔ مبارک باد کا مستحق ہے وہ بندہ، جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، دراں حال کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں۔ اگر اسے پہرے پر لگا دیا جائے، تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے دیکھ بھال کے لیے لگا دیا جائے، تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے۔ اگر وہ اجازت مانگے، تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے، تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے۔"
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: انسان کا آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرنا ﴿درست نہیں ہے﴾۔
دوسرا مسئلہ: اس میں سورۂ ہود کی اُس کی تفسیر ہے ﴿جس میں دنیا کے طلب گار کی مذمت بیان کی گئی ہے﴾۔
تیسرا مسئلہ: یہاں حریص مسلم کو درہم و دینار اور ریشمی اور اونی کپڑوں کا بندہ کہا گیا ہے۔
چوتھا مسئلہ: دنیا کے طلب گار کی صفت یہ بتائی ہے کہ اگر اس کی خواہش پوری ہو جائے، تو خوش، ورنہ ناخوش رہتا ہے۔
پانچواں مسئلہ: اس میں آپ کے الفاظ: «تَعِسَ وَانْتَکَسَ» کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
چھٹا مسئلہ: نیز اس میں آپ کے الفاظ: «وَإِذَا شِیكَ فَلاَ انْتَقَشَ» کا معنی بھی بیان کیا گیا ہے۔
ساتواں مسئلہ: یہاں مذکورہ صفات سے متصف مجاہد کی تعریف کی گئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا
← پچھلا باب
باب: ریاکاری کے احکام کا بیان