اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ﴾ [النِّسَاءُ:۵۱]
“کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا، جو بت اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں؟”
مزید ارشاد ہے: ﴿قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللهِ مَن لَّعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ﴾ [الْمَائِدَةُ:۶۱]
“کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی زیادہ برے اجر پانے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وہ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی.”
مزید ارشاد ہے: ﴿قَالَ الَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا﴾ [الْكَهْفُ:۲۱]
“جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا، وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے۔”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ اپنے سے پہلے کے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، اس حال میں کہ تم ان کی برابری بالکل ایسے ہی کروگے جیسے تیر کے سرے پر لگے پر برابر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر اُن میں سے کوئی گوہ کے بل میں گھسا ہوگا، تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔" لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کی مراد یہود و نصاریٰ سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کس سے؟ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور صحیح مسلم میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی، وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت و حکومت پہنچ کر رہے گی, اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔ میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ کرے، جو انھیں مکمل نیست و نابود کر دے۔ میرے رب نے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں، تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا۔ میں تمھاری امت کے بارے میں تمھاری دعا قبول کرتا ہوں کہ میں انھیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن بھی مسلط نہیں کروں گا، جو انھیں مکمل تباہ و برباد کرکے رکھ دے، اگرچہ زمین کے سارے لوگ ان کے خلاف متحد اور مجتمع کیوں نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے اور ہلاک کریں گے۔"
حافظ برقانی نے بھی اپنی کتاب 'الصحیح' میں اسے روایت کیا ہے اور ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: «مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ پیشواؤں کا ڈر ہے۔ جب ان میں ایک بار تلوار اٹھ جائے گی، تو قیامت تلک رُکے گی نہیں۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میری امت کی ایک جماعت مشرکین سے نہ جا ملے اور میری امت کے بہت سے گروہ بُت پرستی نہ کرنے لگیں۔ میری امت میں تیس (۳۰) دجال ہوں گے۔ سب کے سب نبوت کا دعویٰ کریں گے، جب کہ میں ہی خاتم الانبیاء (آخری نبی) ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ (تا قیام قیامت) ہمیشہ راہِ حق پر گامزن رہے گا۔ ان کی (اللہ کی جانب) سے مدد کی جائے گی اور انہیں چھوڑ جانے والے اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم آ جائے۔»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورہ النساء کی ایک آیت کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: سورہ المائدہ کی ایک آیت کی بھی تفسیر ہے۔
تیسرا مسئلہ: اسی طرح سورہ الکہف کی بھی ایک آیت کی تفسیر ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس باب کا ایک اہم ترین مسئلہ اس بات کی وضاحت کر دینا ہے کہ یہاں جِبْت (بُت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان لانے کے معنی و مفہوم کیا ہیں؟ کیا اس کے معنی قلبی اعتقاد کے ہیں؟ یا ان چیزوں سے نفرت اور ان کے باطل ہونے کا علم رکھنے کے باوجود ان کے ماننے والوں کی موافقت ہے؟
پانچواں مسئلہ: اس سے یہودیوں کے اس دعوے کا بھی علم ہوا کہ کفار جو اپنے کفر سے واقف ہیں، ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔
چھٹا مسئلہ: ایک اہم مسئلہ جو اس باب کا مقصود ہے، یہ ہے کہ اس امت کے اندر اہل حق کی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہے گی، جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔
ساتواں مسئلہ: یہاں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اس امت کے بہت سے گروہ بُت پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔
آٹھواں مسئلہ: بہت ہی تعجب خیز بات یہ ہے کہ مختار ثقفی جیسے لوگ جو شہادتین کا کو ادا کرتے ہیں اور اسی امت کے ایک فرد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نیز یہ بھی مانتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں اور قرآن مجید سچی کتاب ہے، جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی کا ہونے کا ذکر ہے۔ پھر ان کی باتوں میں واضح تضاد کے باوجود کچھ لوگ ان کی تصدیق کر دیتے ہیں۔ مختار ثقفی صحابہ کے آخری دور میں ظاہر ہوا تھا اور بہت سے گروہ اس کے پیروکار بھی بن گئے تھے۔
نواں مسئلہ: یہاں اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ اس امت سے خیر کا بالکلیہ خاتمہ نہیں ہو گا، جیسا کہ سابقہ زمانوں میں ہوتا رہا ہے، بلکہ ایک جماعت قیامت تک حق پر رہے گی۔
دسواں مسئلہ: بہت بڑی نشانی کہ اہلِ حق کی تعداد کم ہونے کے باوجود انھیں بے سہارا چھوڑنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔
گیارہواں مسئلہ: اہلِ حق کا وجود قیامت تک رہے گا۔
بارہواں مسئلہ: مذکورہ حدیث میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کی) کئی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کے مشرقوں اور مغربوں کو سمیٹ دیا۔ نیز آپ نے اس کا معنی بھی بتایا۔ اس معاملے میں آپ نے جو کچھ فرمایا تھا، وہ حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا۔ برخلاف شمال و جنوب کے (کہ اس کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں بتایا)۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ آپ کو دو خزانے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح آپ کا یہ اطلاع دینا کہ امت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دو دعائیں قبول ہو گئیں، جب کہ آپ کی تیسری دعا قبول نہیں ہوئی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ میری امت میں اگر تلوار چل نکلی تو قیامت تک نہیں رکے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ اس امت کے لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور غلام بنائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے تئیں گمراہ پیشواؤں سے خدشہ ظاہر کرنا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ اس امت میں نبوت کے بہت سے جھوٹے دعوے دار پیدا ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ مدد یافتہ اہلِ حق کا ایک گروہ باقی رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں، حالاں کہ ان میں سے ہر ایک کا وقوع پذیر ہونا عقلی طور پر بعید تر تھا۔
تیرہواں مسئلہ: اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں خوف صرف گمراہ پیشواؤں سے درپیش تھا۔
چودہواں مسئلہ: یہاں بُت پرستی کے معنی و مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: جادو کے احکام کا بیان
← پچھلا باب
باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان