Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۲۳ / ۶۷

باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ﴾ [النِّسَاءُ:۵۱]

“کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا، جو بت اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں؟”

مزید ارشاد ہے: ﴿قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللهِ مَن لَّعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ﴾ [الْمَائِدَةُ:۶۱]

“کہہ دیجیے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی زیادہ برے اجر پانے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وہ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی.”

مزید ارشاد ہے: ﴿قَالَ الَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا﴾ [الْكَهْفُ:۲۱]

“جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا، وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنالیں گے۔”

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ اپنے سے پہلے کے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، اس حال میں کہ تم ان کی برابری بالکل ایسے ہی کروگے جیسے تیر کے سرے پر لگے پر برابر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر اُن میں سے کوئی گوہ کے بل میں گھسا ہوگا، تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔" لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کی مراد یہود و نصاریٰ سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کس سے؟ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور صحیح مسلم میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی تھی، وہاں تک عنقریب میری امت کی سلطنت و حکومت پہنچ کر رہے گی, اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔ میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ کرے، جو انھیں مکمل نیست و نابود کر دے۔ میرے رب نے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں، تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا۔ میں تمھاری امت کے بارے میں تمھاری دعا قبول کرتا ہوں کہ میں انھیں عام قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان پر کوئی ایسا بیرونی دشمن بھی مسلط نہیں کروں گا، جو انھیں مکمل تباہ و برباد کرکے رکھ دے، اگرچہ زمین کے سارے لوگ ان کے خلاف متحد اور مجتمع کیوں نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے اور ہلاک کریں گے۔"

حافظ برقانی نے بھی اپنی کتاب 'الصحیح' میں اسے روایت کیا ہے اور ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: «مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ پیشواؤں کا ڈر ہے۔ جب ان میں ایک بار تلوار اٹھ جائے گی، تو قیامت تلک رُکے گی نہیں۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میری امت کی ایک جماعت مشرکین سے نہ جا ملے اور میری امت کے بہت سے گروہ بُت پرستی نہ کرنے لگیں۔ میری امت میں تیس (۳۰) دجال ہوں گے۔ سب کے سب نبوت کا دعویٰ کریں گے، جب کہ میں ہی خاتم الانبیاء (آخری نبی) ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ (تا قیام قیامت) ہمیشہ راہِ حق پر گامزن رہے گا۔ ان کی (اللہ کی جانب) سے مدد کی جائے گی اور انہیں چھوڑ جانے والے اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم آ جائے۔»

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: اس میں سورہ النساء کی ایک آیت کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ: سورہ المائدہ کی ایک آیت کی بھی تفسیر ہے۔

تیسرا مسئلہ: اسی طرح سورہ الکہف کی بھی ایک آیت کی تفسیر ہے۔

چوتھا مسئلہ: اس باب کا ایک اہم ترین مسئلہ اس بات کی وضاحت کر دینا ہے کہ یہاں جِبْت (بُت) اور طاغوت (شیطان) پر ایمان لانے کے معنی و مفہوم کیا ہیں؟ کیا اس کے معنی قلبی اعتقاد کے ہیں؟ یا ان چیزوں سے نفرت اور ان کے باطل ہونے کا علم رکھنے کے باوجود ان کے ماننے والوں کی موافقت ہے؟

پانچواں مسئلہ: اس سے یہودیوں کے اس دعوے کا بھی علم ہوا کہ کفار جو اپنے کفر سے واقف ہیں، ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔

چھٹا مسئلہ: ایک اہم مسئلہ جو اس باب کا مقصود ہے، یہ ہے کہ اس امت کے اندر اہل حق کی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہے گی، جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔

ساتواں مسئلہ: یہاں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ اس امت کے بہت سے گروہ بُت پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔

آٹھواں مسئلہ: بہت ہی تعجب خیز بات یہ ہے کہ مختار ثقفی جیسے لوگ جو شہادتین کا کو ادا کرتے ہیں اور اسی امت کے ایک فرد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، نیز یہ بھی مانتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں اور قرآن مجید سچی کتاب ہے، جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی کا ہونے کا ذکر ہے۔ پھر ان کی باتوں میں واضح تضاد کے باوجود کچھ لوگ ان کی تصدیق کر دیتے ہیں۔ مختار ثقفی صحابہ کے آخری دور میں ظاہر ہوا تھا اور بہت سے گروہ اس کے پیروکار بھی بن گئے تھے۔

نواں مسئلہ: یہاں اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ اس امت سے خیر کا بالکلیہ خاتمہ نہیں ہو گا، جیسا کہ سابقہ زمانوں میں ہوتا رہا ہے، بلکہ ایک جماعت قیامت تک حق پر رہے گی۔

دسواں مسئلہ: بہت بڑی نشانی کہ اہلِ حق کی تعداد کم ہونے کے باوجود انھیں بے سہارا چھوڑنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔

گیارہواں مسئلہ: اہلِ حق کا وجود قیامت تک رہے گا۔

بارہواں مسئلہ: مذکورہ حدیث میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کے رسول ہونے کی) کئی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زمین کے مشرقوں اور مغربوں کو سمیٹ دیا۔ نیز آپ نے اس کا معنی بھی بتایا۔ اس معاملے میں آپ نے جو کچھ فرمایا تھا، وہ حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا۔ برخلاف شمال و جنوب کے (کہ اس کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں بتایا)۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ آپ کو دو خزانے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح آپ کا یہ اطلاع دینا کہ امت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دو دعائیں قبول ہو گئیں، جب کہ آپ کی تیسری دعا قبول نہیں ہوئی۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ میری امت میں اگر تلوار چل نکلی تو قیامت تک نہیں رکے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ اس امت کے لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور غلام بنائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے تئیں گمراہ پیشواؤں سے خدشہ ظاہر کرنا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ اس امت میں نبوت کے بہت سے جھوٹے دعوے دار پیدا ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بتانا کہ مدد یافتہ اہلِ حق کا ایک گروہ باقی رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوئیں، حالاں کہ ان میں سے ہر ایک کا وقوع پذیر ہونا عقلی طور پر بعید تر تھا۔

تیرہواں مسئلہ: اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں خوف صرف گمراہ پیشواؤں سے درپیش تھا۔

چودہواں مسئلہ: یہاں بُت پرستی کے معنی و مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app