باب ۴۷ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی
ابو شریح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُن کی کنیت ابوالحکم تھی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
"حکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور حکم بھی وہی کرتا ہے!"
"حکم تو اللہ تعالیٰ ہے اور حکم بھی وہی کرتا ہے!"
انہوں نے ﴿اپنے نام کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے﴾ کہا: میری قوم کے اندر جب کسی بات پر اختلاف ہو جاتا ہے، تو لوگ میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے مابین فیصلہ کر دیتا ہوں، جس سے دونوں فریق راضی ہو جاتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ کیسی اچھی بات ہے؟ تمہاری اولاد میں کون کون ہیں؟"
میں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان میں سب سے بڑا کون ہے؟"
میں نے کہا: شریح
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اب تم ابوشریح ہو۔» اسے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ کے اسماوصفات کا احترام کرنا چاہیے، گرچہ دوسرے کے لیے استعمال کرتے وقت ان کے معنی مقصود نہ بھی ہوں۔
دوسرا مسئلہ: اس مقصد سے کسی کا نام تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
تیسرا مسئلہ: کنیت رکھنے کے لیے سب سے بڑے بیٹے کا نام اختیار کرنا چاہیے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم
← پچھلا باب
باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم