باب ۵۱ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔
ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے آیتِ کریمہ ﴿یُلحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ﴾ 'وہ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں' کی تفسیر میں 'الحاد کرتے ہیں' کے معنی 'شرک کرتے ہیں' بتائے ہیں۔
اور ابن عباس ہی روایت ہے کہ مشرکینِ مکہ نے 'اللہ' سے 'اللات' اور 'العزیز' سے 'العزّٰی' نام رکھ لیا تھا۔
اعمش سے مروی ہے کہ اس الحاد سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے ناموں میں ایسے ناموں کو بھی داخل کر لیتے ہیں، جو ان میں شامل نہیں ہیں۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
اس سے اللہ کے ناموں کا اثبات ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے یہ سارے نام نہایت اچھے ہیں۔
ان ناموں کے ذریعہ دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جو جاہل اور ملحد معارضہ کریں، ان سے بحث نہیں کرنی چاہیے۔
اللہ کے ناموں میں الحاد کی وضاحت کی گئی ہے۔
اللہ کے ناموں میں الحاد کرنے والوں کے لیے وعید بیان کی گئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول)