اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿الَّذِينَ ءامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمنُ وَهُم مُّهتَدُونَ﴾ [الأَنْعَام:۸۲].
“جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔”
اور حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے، اس کے رسول، اس کی جانب سے مریم تک پہنچایا گیا ایک کلمہ اور اس کی جانب سے بھیجی گئی ایک روح ہیں، اور جنت اور دوزخ برحق ہیں؛ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔» اسے امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور صحیحین ہی میں عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «بے شک اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے، جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر لا الہ الا اللہ کہے۔»
اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز سکھلا دے، جس کے ذریعہ میں تجھے یاد کروں اور تجھ سے دعا مانگوں! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! لا الہ الا اللہ کہو! موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ میرے رب! تیرے تمام بندے یہ کلمہ پڑھتے ہیں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ ان کے سارے مکین اور ساتوں زمین کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے، تو یقیناً لا الہ الا اللہ کا پلڑا جھک جائے گا۔» اسے ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے، نیز حاکم نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔
اور سنن ترمذی کی ایک حدیث میں، جسے ترمذی نے حسن بھی کہا ہے، انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر کر گناہ لائے، پھر اس حال میں تو مجھ سے ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں اسی قدر تیری طرف مغفرت و بخشش لے کر آؤں گا۔»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ کا فضل بے پایاں ہے۔
دوسرا مسئلہ: اللہ کے ہاں توحید کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
تیسرا مسئلہ: عقیدۂ توحید بہت زیادہ ثواب کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے۔
چوتھا مسئلہ: اس سے سورہ الانعام کی آیت نمبر (۸۲) کی تفسیر بھی ہو جاتی ہے۔
پانچواں مسئلہ: عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد پانچوں امور پر غور و فکر کرنا۔
چھٹا مسئلہ: جب حدیث عبادہ رضی اللہ عنہ اور حدیث عتبان رضی اللہ عنہ نیز اس کے مابعد کی حدیث کو یکجا کرتے ہیں، تو ان احادیث سے (لا الہ الا اللہ) کا مفہوم مکمل واضح ہو جاتا ہے اور جو لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں (کہ صرف زبان سے کلمہ کا اقرار نجات کے لیے کافی ہے) ان کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔
ساتواں مسئلہ: عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں موجود شرط پر تنبیہ۔
آٹھواں مسئلہ: انبیاء علیہم السلام بھی ’لا الہ الا اللہ‘ کی فضیلت پر متنبہ کیے جانے کے محتاج تھے۔
نواں مسئلہ: یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس کلمۂ توحید کے تمام آسمانوں اور زمینوں پر بھاری ہونے کے باوجود بہت سے کلمہ گو لوگوں کے ترازو ہلکے ثابت ہوں گے۔
دسواں مسئلہ: یہاں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔
گیارہواں مسئلہ: یہ سارے آسمان اور زمین (مخلوق سے) آباد ہیں۔
بارہواں مسئلہ: اشاعرہ کے برخلاف اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اثبات ہوتا ہے۔
تیرہواں مسئلہ: جب آپ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اچھی طرح سمجھ لی، تو یہ بھی سمجھ چکے ہوں گے کہ حدیثِ عتبان: (جو شخص صرف رضائے الٰہی کی خاطر لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لے، تو اللہ اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے) سے مراد شرک سے کنارہ کش ہو جانا ہے، صرف زبان سے کلمہ کا اقرار کر لینا نہیں۔
چودہواں مسئلہ: یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو اللہ کا بندہ اور رسول کہا گیا ہے۔
پندرہواں مسئلہ: اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ’اللہ تعالیٰ کا کلمہ‘ ہونے کی خصوصیت حاصل ہے۔
سولہواں مسئلہ: اس بات کی بھی جانکاری ملتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ایک روح ہیں۔
سترہواں مسئلہ: جنت اور جہنم پر ایمان لانے کی فضیلت کا بھی علم ہوتا ہے۔
اٹھارہواں مسئلہ: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ﴿عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ﴾ (خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں) کا معنی معلوم ہوتا ہے (یعنی انسان کے جنت میں جانے کے لیے اس کا صاحبِ توحید ہونا شرط ہے)۔
سترہواں مسئلہ: (قیامت کے دن نصب) میزان کے دو پلڑے ہیں۔
بیسواں مسئلہ: اس بات کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ (تاہم اس چہرے کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی)۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا
← پچھلا باب
کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے