Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۲ / ۶۷

باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿الَّذِينَ ءامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمنُ وَهُم مُّهتَدُونَ﴾ [الأَنْعَام:۸۲].

“جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔”

اور حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے، اس کے رسول، اس کی جانب سے مریم تک پہنچایا گیا ایک کلمہ اور اس کی جانب سے بھیجی گئی ایک روح ہیں، اور جنت اور دوزخ برحق ہیں؛ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔» اسے امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور صحیحین ہی میں عتبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: «بے شک اللہ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا ہے، جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر لا الہ الا اللہ کہے۔»

اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز سکھلا دے، جس کے ذریعہ میں تجھے یاد کروں اور تجھ سے دعا مانگوں! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! لا الہ الا اللہ کہو! موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ میرے رب! تیرے تمام بندے یہ کلمہ پڑھتے ہیں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ ان کے سارے مکین اور ساتوں زمین کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے، تو یقیناً لا الہ الا اللہ کا پلڑا جھک جائے گا۔» اسے ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے، نیز حاکم نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔

اور سنن ترمذی کی ایک حدیث میں، جسے ترمذی نے حسن بھی کہا ہے، انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر کر گناہ لائے، پھر اس حال میں تو مجھ سے ملاقات کرے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں اسی قدر تیری طرف مغفرت و بخشش لے کر آؤں گا۔»

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ کا فضل بے پایاں ہے۔

دوسرا مسئلہ: اللہ کے ہاں توحید کا ثواب بہت زیادہ ہے۔

تیسرا مسئلہ: عقیدۂ توحید بہت زیادہ ثواب کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے۔

چوتھا مسئلہ: اس سے سورہ الانعام کی آیت نمبر (۸۲) کی تفسیر بھی ہو جاتی ہے۔

پانچواں مسئلہ: عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد پانچوں امور پر غور و فکر کرنا۔

چھٹا مسئلہ: جب حدیث عبادہ رضی اللہ عنہ اور حدیث عتبان رضی اللہ عنہ نیز اس کے مابعد کی حدیث کو یکجا کرتے ہیں، تو ان احادیث سے (لا الہ الا اللہ) کا مفہوم مکمل واضح ہو جاتا ہے اور جو لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں (کہ صرف زبان سے کلمہ کا اقرار نجات کے لیے کافی ہے) ان کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔

ساتواں مسئلہ: عتبان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں موجود شرط پر تنبیہ۔

آٹھواں مسئلہ: انبیاء علیہم السلام بھی ’لا الہ الا اللہ‘ کی فضیلت پر متنبہ کیے جانے کے محتاج تھے۔

نواں مسئلہ: یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس کلمۂ توحید کے تمام آسمانوں اور زمینوں پر بھاری ہونے کے باوجود بہت سے کلمہ گو لوگوں کے ترازو ہلکے ثابت ہوں گے۔

دسواں مسئلہ: یہاں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔

گیارہواں مسئلہ: یہ سارے آسمان اور زمین (مخلوق سے) آباد ہیں۔

بارہواں مسئلہ: اشاعرہ کے برخلاف اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اثبات ہوتا ہے۔

تیرہواں مسئلہ: جب آپ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اچھی طرح سمجھ لی، تو یہ بھی سمجھ چکے ہوں گے کہ حدیثِ عتبان: (جو شخص صرف رضائے الٰہی کی خاطر لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لے، تو اللہ اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے) سے مراد شرک سے کنارہ کش ہو جانا ہے، صرف زبان سے کلمہ کا اقرار کر لینا نہیں۔

چودہواں مسئلہ: یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ اس حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو اللہ کا بندہ اور رسول کہا گیا ہے۔

پندرہواں مسئلہ: اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ’اللہ تعالیٰ کا کلمہ‘ ہونے کی خصوصیت حاصل ہے۔

سولہواں مسئلہ: اس بات کی بھی جانکاری ملتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ایک روح ہیں۔

سترہواں مسئلہ: جنت اور جہنم پر ایمان لانے کی فضیلت کا بھی علم ہوتا ہے۔

اٹھارہواں مسئلہ: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ﴿عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ﴾ (خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں) کا معنی معلوم ہوتا ہے (یعنی انسان کے جنت میں جانے کے لیے اس کا صاحبِ توحید ہونا شرط ہے)۔

سترہواں مسئلہ: (قیامت کے دن نصب) میزان کے دو پلڑے ہیں۔

بیسواں مسئلہ: اس بات کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ (تاہم اس چہرے کی کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی)۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app