Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۵ / ۶۷

باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أنَا ومَنِ اتَّبَعَنِي وسُبحَانَ اللهِ ومَا أنَا مِنَ المُشرِكِينَ﴾ [يُوسُف:۱۰۸]

“آپ کہہ دیجیے کہ میری راہ یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں”

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو ان سے فرمایا: “تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ چنانچہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ﴿جب کہ دوسری روایت میں ہے: تم انھیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کی توحید کا اقرار کریں﴾۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں، تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان میں سے اصحابِ ثروت سے وصول کر کے انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔” اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔

صحیحین ہی میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ خیبر کے دن فرمایا: «کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا، جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اُس سے محبت کرتے ہیں۔» چنانچہ صحابہ رات بھر قیاس آرائیاں کرتے رہے کہ پرچم کسے دیا جائے گا؟ صبح ہوئی تو صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ پرچم اسے ہی ملے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اُن کی آنکھیں دُکھ رہی ہیں۔ پھر صحابہ نے علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا بھیجا۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور دعا فرمائی، جس سے ان کی تکلیف جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پرچم تھماتے ہوئے فرمایا: «اطمینان سے جاؤ۔ جب خیبر کے میدان میں پہنچ جاؤ، تو پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا اور انھیں ان کے اوپر عائد ہونے والے اللہ حقوق بتانا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری بدولت ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے، تو تمہارے لیے یہ سعادت سُرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔»

حدیث میں وارد لفظ 'یَدُوکُونَ' کے معنی ہیں: وہ قیاس آرائیاں کرتے رہے۔

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: اللہ کی طرف دوسروں کو بلانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا وطیرہ رہا ہے۔

دوسرا مسئلہ: یہاں اخلاصِ نیت پر تنبیہ کی گئی ہے؛ اس لیے کہ بہت سے لوگ، جو حق کی دعوت دیتے ہیں، دراصل وہ اپنی ذات کی طرف بلا رہے ہوتے ہیں۔

تیسرا مسئلہ: دعوتی کاز میں بصیرت سے کام لینا فرض ہے۔

چوتھا مسئلہ: توحید کے حسن کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ ان چیزوں سے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے جو اس کے لئے اہانت اور عار ہیں نیز گالی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پانچواں مسئلہ: شرک کی ایک خرابی یہ ہے کہ یہ اللہ کے لیے گالی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں اس کی اہانت ہے۔

چھٹا مسئلہ: اس باب کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان کو اہلِ شرک سے دور رکھنا چاہیے، تاکہ ان کی صفوں میں شامل نہ ہو جائیں، گرچہ شرک نہ کریں۔

ساتواں مسئلہ: توحید پہلا دینی فریضہ ہے۔

آٹھواں مسئلہ: دعوت کے کام میں سب سے پہلے توحید سے آغاز کرنا چاہیے، یہاں تک کہ نماز سے بھی پہلے۔

نواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ گرامی: 'أَنْ یُوَحِّدُوا اللہَ' ﴿کہ وہ اللہ کو ایک جانیں اور ایک مانیں﴾ کے معنی وہی ہیں، جو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کے ہیں۔

دسواں مسئلہ: بسا اوقات انسان آسمانی کتابوں کا حامل ہونے کے باوجود توحید سے کماحقہ باخبر نہیں ہوتا یا جاننے کے باوجود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔

گیارہواں مسئلہ: تعلیم دینے کے معاملے میں تدریج سے کام لینا چاہیے۔

بارہواں مسئلہ: دین کی طرف دعوت دیتے وقت پہلے زیادہ اہم سے کم اہم کی طرف دعوت دینے کے ضابطہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

تیرہواں مسئلہ: اس میں زکوٰۃ کے مصرف کا بیان ہے۔

چودہواں مسئلہ: معلم کو چاہیے کہ وہ سیکھنے والے کے شکوک و شبہات کو بھی دور کرے۔

پندرہواں مسئلہ: زکوٰۃ میں نفیس اور قیمتی مال لینے کی ممانعت۔

سولہواں مسئلہ: مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے۔

سترہواں مسئلہ: اس میں بتایا گیا ہے کہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔

اٹھارہواں مسئلہ: سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور سادات اولیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جن مشقتوں، بھوک اور وبا سے دوچار ہونا پڑا وہ سب دلائلِ توحید میں سے ہیں۔

سترہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «أَعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ اِلخ» ﴿میں پرچم ایسے شخص کو دوں گا اِلخ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اہم نشانی ہے۔

بیسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگانا ﴿اور اُن کا شفایاب ہو جانا﴾ بھی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

اکیسواں مسئلہ: علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

بائیسواں مسئلہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فتح کی بشارت سے بے نیاز ہو کر ﴿پرچم حاصل کرنے والے کے بارے میں﴾ قیاس آرائیاں کرنا، اُن کی فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔

تئیسواں مسئلہ: اس سے ایمان بالقدر کا بھی ثبوت ملتا ہے، کیوں کہ پرچم ایسے شخص کو مل گیا، جس نے اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کی اور ان لوگوں کو نہ مل سکا، جن لوگوں نے کوشش کی۔

چوبیسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: 'عَلَی رِسْلِکَ' ﴿آرام سے جاؤ﴾ میں آدابِ جنگ کا پہلو نمایاں ہے۔

پچیسواں مسئلہ: جنگ سے پہلے ﴿دشمن کو﴾ اسلام کی دعوت دینی چاہیے۔

چھبیسواں مسئلہ: یہ ان کے لیے بھی مشروع ہے، جنہیں اس سے پہلے دعوت دی جا چکی ہو اور جنگ کی جا چکی ہو۔

ستائیسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «أَخْبِرْھُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْھِمْ» ﴿انہیں بتاؤ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق واجب ہیں﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت حکمت و دانائی کے ساتھ دینی چاہیے۔

اٹھائیسواں مسئلہ: اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حقوق سے روشناس ہونا ضروری ہے۔

انتیسواں مسئلہ: جس شخص کے ہاتھوں ایک شخص بھی ہدایت پا جائے، اس کے اجر و ثواب کی جانکاری ملتی ہے۔

تیسواں مسئلہ: اس سے فتویٰ پر قسم اٹھانے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app