اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أنَا ومَنِ اتَّبَعَنِي وسُبحَانَ اللهِ ومَا أنَا مِنَ المُشرِكِينَ﴾ [يُوسُف:۱۰۸]
“آپ کہہ دیجیے کہ میری راہ یہی ہے۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں”
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، تو ان سے فرمایا: “تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ چنانچہ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ﴿جب کہ دوسری روایت میں ہے: تم انھیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کی توحید کا اقرار کریں﴾۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں، تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان میں سے اصحابِ ثروت سے وصول کر کے انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔” اسے امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔
صحیحین ہی میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ خیبر کے دن فرمایا: «کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا، جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اُس سے محبت کرتے ہیں۔» چنانچہ صحابہ رات بھر قیاس آرائیاں کرتے رہے کہ پرچم کسے دیا جائے گا؟ صبح ہوئی تو صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ پرچم اسے ہی ملے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اُن کی آنکھیں دُکھ رہی ہیں۔ پھر صحابہ نے علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلا بھیجا۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا اور دعا فرمائی، جس سے ان کی تکلیف جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پرچم تھماتے ہوئے فرمایا: «اطمینان سے جاؤ۔ جب خیبر کے میدان میں پہنچ جاؤ، تو پہلے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا اور انھیں ان کے اوپر عائد ہونے والے اللہ حقوق بتانا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری بدولت ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے، تو تمہارے لیے یہ سعادت سُرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔»
حدیث میں وارد لفظ 'یَدُوکُونَ' کے معنی ہیں: وہ قیاس آرائیاں کرتے رہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ کی طرف دوسروں کو بلانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا وطیرہ رہا ہے۔
دوسرا مسئلہ: یہاں اخلاصِ نیت پر تنبیہ کی گئی ہے؛ اس لیے کہ بہت سے لوگ، جو حق کی دعوت دیتے ہیں، دراصل وہ اپنی ذات کی طرف بلا رہے ہوتے ہیں۔
تیسرا مسئلہ: دعوتی کاز میں بصیرت سے کام لینا فرض ہے۔
چوتھا مسئلہ: توحید کے حسن کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ ان چیزوں سے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے جو اس کے لئے اہانت اور عار ہیں نیز گالی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پانچواں مسئلہ: شرک کی ایک خرابی یہ ہے کہ یہ اللہ کے لیے گالی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں اس کی اہانت ہے۔
چھٹا مسئلہ: اس باب کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان کو اہلِ شرک سے دور رکھنا چاہیے، تاکہ ان کی صفوں میں شامل نہ ہو جائیں، گرچہ شرک نہ کریں۔
ساتواں مسئلہ: توحید پہلا دینی فریضہ ہے۔
آٹھواں مسئلہ: دعوت کے کام میں سب سے پہلے توحید سے آغاز کرنا چاہیے، یہاں تک کہ نماز سے بھی پہلے۔
نواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ گرامی: 'أَنْ یُوَحِّدُوا اللہَ' ﴿کہ وہ اللہ کو ایک جانیں اور ایک مانیں﴾ کے معنی وہی ہیں، جو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کے ہیں۔
دسواں مسئلہ: بسا اوقات انسان آسمانی کتابوں کا حامل ہونے کے باوجود توحید سے کماحقہ باخبر نہیں ہوتا یا جاننے کے باوجود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔
گیارہواں مسئلہ: تعلیم دینے کے معاملے میں تدریج سے کام لینا چاہیے۔
بارہواں مسئلہ: دین کی طرف دعوت دیتے وقت پہلے زیادہ اہم سے کم اہم کی طرف دعوت دینے کے ضابطہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
تیرہواں مسئلہ: اس میں زکوٰۃ کے مصرف کا بیان ہے۔
چودہواں مسئلہ: معلم کو چاہیے کہ وہ سیکھنے والے کے شکوک و شبہات کو بھی دور کرے۔
پندرہواں مسئلہ: زکوٰۃ میں نفیس اور قیمتی مال لینے کی ممانعت۔
سولہواں مسئلہ: مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے۔
سترہواں مسئلہ: اس میں بتایا گیا ہے کہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
اٹھارہواں مسئلہ: سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور سادات اولیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جن مشقتوں، بھوک اور وبا سے دوچار ہونا پڑا وہ سب دلائلِ توحید میں سے ہیں۔
سترہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: «أَعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ اِلخ» ﴿میں پرچم ایسے شخص کو دوں گا اِلخ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک اہم نشانی ہے۔
بیسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگانا ﴿اور اُن کا شفایاب ہو جانا﴾ بھی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
اکیسواں مسئلہ: علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
بائیسواں مسئلہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فتح کی بشارت سے بے نیاز ہو کر ﴿پرچم حاصل کرنے والے کے بارے میں﴾ قیاس آرائیاں کرنا، اُن کی فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔
تئیسواں مسئلہ: اس سے ایمان بالقدر کا بھی ثبوت ملتا ہے، کیوں کہ پرچم ایسے شخص کو مل گیا، جس نے اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کی اور ان لوگوں کو نہ مل سکا، جن لوگوں نے کوشش کی۔
چوبیسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: 'عَلَی رِسْلِکَ' ﴿آرام سے جاؤ﴾ میں آدابِ جنگ کا پہلو نمایاں ہے۔
پچیسواں مسئلہ: جنگ سے پہلے ﴿دشمن کو﴾ اسلام کی دعوت دینی چاہیے۔
چھبیسواں مسئلہ: یہ ان کے لیے بھی مشروع ہے، جنہیں اس سے پہلے دعوت دی جا چکی ہو اور جنگ کی جا چکی ہو۔
ستائیسواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «أَخْبِرْھُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْھِمْ» ﴿انہیں بتاؤ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے کیا حقوق واجب ہیں﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت حکمت و دانائی کے ساتھ دینی چاہیے۔
اٹھائیسواں مسئلہ: اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حقوق سے روشناس ہونا ضروری ہے۔
انتیسواں مسئلہ: جس شخص کے ہاتھوں ایک شخص بھی ہدایت پا جائے، اس کے اجر و ثواب کی جانکاری ملتی ہے۔
تیسواں مسئلہ: اس سے فتویٰ پر قسم اٹھانے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب
← پچھلا باب
باب: شرک سے خوف کا بیان