Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۴۹ / ۶۷

باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50]

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

“اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا اور میں تو خیال نہیں کرسکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس کیا گیا، تو بھی یقیناً میرے لیے اس کے پاس بھی بہتری ہے۔ یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے”

مجاہد «هَذَا لِي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مال ودولت تو میری محنت وکاوش کا نتیجہ ہے اور میں اس کا مستحق ہوں۔

ابن عباس اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ یہ مال تو صرف میرے کام اور میری ذہانت کی وجہ سے ہے۔

اور فرمانِ الٰہی: ﴿یہ مال مجھے میرے علم کی بدولت ملا ہے۔﴾ کے بارے میں قتادہ کہتے ہیں: وہ کہتا ہے کہ یہ مال مجھے کمائی کے مختلف طریقوں میں مہارت کی وجہ سے ملا ہے۔

﴿یہ مال مجھے میرے علم کی بدولت ملا ہے۔﴾ کے بارے میں

قتادہ کہتے ہیں: وہ کہتا ہے کہ یہ مال مجھے کمائی کے مختلف طریقوں میں مہارت کی وجہ سے ملا ہے۔

دیگر اہلِ علم نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: وہ کہتا ہے کہ یہ مال ودولت مجھے اس لیے ملا کہ میں اللہ کے علم کے مطابق اس کا اہل ہوں۔

اور مجاہد کے قول کا معنی بھی یہی ہے کہ یہ مال ودولت مجھے بزرگی وشرف کی بناپر ملا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا اگنجا۔

"بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا اگنجا۔

اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے۔ اس لیے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔

فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟

اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ، اچھی چمڑی اور یہ کہ وہ گندگی مجھ سے دور ہوجائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے دور رہتے ہیں۔

بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو اس کی گندگی دور ہوگئی اور اس کا رنگ بھی خوب صورت ہوگیا اور چمڑی بھی اچھی ہوگئی۔

فرشتے نے پوچھا کون سا مال تجھے محبوب ہے؟

اس نے کہا کہ اونٹ اس نے گائے کہی۔ اس حدیث کے راوی اسحاق کو اس سلسلے میں شک ہے کہ اس نے دونوں میں سے کیا کہا تھا۔ چنانچہ اسے ایک دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی۔

پھر فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے۔

کہا: پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا

اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟

اس نے کہا کہ عمدہ بال اور یہ کہ میرا وہ عیب جاتا رہے، جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔

تو فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے سر پر عمدہ بال آگئے۔

پھر فرشتے نے پوچھا: کس طرح کا مال سب سے زیادہ پسند کرتے ہو؟

اس نے کہا گائے یا اونٹ ﴿یہاں بھی راوی کو شک ہے﴾۔ چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے دے دی

اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں تجھے برکت دے۔

پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا

اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟

اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دے دے، تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ تو فرشتے نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی۔

پھر پوچھا کہ کون سا مال سب سے زیادہ پسند کرتے ہو؟

اس نے کہا کہ بکریاں!

چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری دے دی۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے۔

یہاں تک کہ کوڑھی کے پاس ایک وادی بھر اونٹ ہوگئے، گنجے کے پاس ایک وادی بھر گائیں ہوگئیں اور اندھے کے پاس ایک وادی بھر بکریاں ہوگئیں۔

آپ فرماتے ہیں کہ پھر وہی فرشتہ اپنی ﴿پہلی بار والی﴾ صورت اور پہناوے میں دوبارہ کوڑھی کے پاس آیا اور بولا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان واسباب ختم ہوچکے ہیں، چنانچہ اگر اللہ پھر آپ کی مدد نہ مل سکی تو گھر واپس نہیں پہنچ سکتا۔

میں تم سے، اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے اپنا سفر پورا کر سکوں۔

لیکن اس نے فرشتے سے کہہ دیا: میرے ذمے بہت سے حقوق ہیں۔

یہ سن کر فرشتہ نے کہا: غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں! کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی، جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کرتے تھے؟ کیا تم ایک فقیر اور قلاش نہیں تھے، جس کے بعد اللہ نے تمہیں یہ مال و دولت عطا کی؟

اس نے جواب دیا: مال ودولت کا یہ سلسلہ تو میرے باپ دادا کے زمانے سے چلا آ رہا ہے!

فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو، تو اللہ تمہیں تمھاری پہلی حالت پر لوٹا دے۔

پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی ﴿پہلی بار والی﴾ صورت اور پہناوے میں آیا۔

اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔

چنانچہ فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمھاری پہلی حالت پر لوٹا دے۔

اس کے بعد فرشتہ اپنی ﴿پہلی بار والی﴾ صورت اور پہناوے میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان ختم ہوچکے ہیں، چنانچہ اگر اللہ پھر آپ کی مدد نہ مل سکی تو گھر واپس نہیں پہنچ سکتا۔

میں تم سے، اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے، ایک بکری مانگتا ہوں، جس سے میں اپنا سفر پورا کر سکوں۔

اندھے نے جواب دیا: واقعی میں اندھا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی، اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو اور جتنی بکریاں چاہو چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم، جو کچھ بھی تم آج اللہ کے نام پر لو گے میں اسے واپس کرنے کے لئے تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالوں گا۔

اس کی بات سن کر فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ یہ تو صرف امتحان تھا۔ اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہو گیا اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: اس میں مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔

دوسرا مسئلہ: یہاں آیت کریمہ: ﴿لَيَقُولَنَّ هَـٰذَا لِي﴾ کی تفسیر کی گئی ہے۔

تیسرا مسئلہ: اس میں فرمان باری تعالیٰ: ﴿إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي﴾ کی بھی تفسیر ہے۔

چوتھا مسئلہ: اس انوکھے قصے کے اندر بڑی عبرتیں اور نصیحتیں موجود ہیں۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app