باب ۳۴ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔
نیز فرمایا: ﴿وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلاَّ الضَّآلُّونَ﴾ [الْحِجْرُ:۵۶]
“اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔”
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونااور اللہ کی گرفت سے بے خوف ہونا۔"
اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
"سب سے بڑے گناہ: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کے مکر سے مامون سمجھنا، اللہ کی رحمت اور مہربانی سے ناامید ہونااور اللہ کی طرف سے زوال مکروہ کو مستبعد سمجھنا"
اسے امام عبدالرزاق نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورۃ اعراف کی اُس آیت کی تفسیر ہے ﴿جس میں اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہونے والوں کا ذکر ہے۔﴾
دوسرا مسئلہ: اسی طرح سورہ حجر کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے ﴿جس میں گمراہ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے دور قرار دیا گیا ہے۔﴾
تیسرا مسئلہ: جو اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو جائے اس کے حق میں شدید وعید وارد ہے۔
چوتھا مسئلہ: اللہ کی رحمت سے مایوسی پر بھی سخت وعید آئی ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے
← پچھلا باب
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23]