باب ۳۲ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175]
نیز فرمایا: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ ءآمَنْ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللهَ فَعَسَى أُوْلَـئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ﴾ [التَّوْبَةُ:۱۸]
“اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی تو ان کے حصے میں ہے، جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں”
نیز فرمایا: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ ءآمَنا بِاللهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللهِ﴾ [الْعَنْكَبُوتُ:۱۰]
“اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، لیکن جب اللہ کی راہ میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے، تو لوگوں کی ایذا دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لیتے ہیں۔”
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: "یہ یقین کی کمزوری ہے کہ تم اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کو خوش کرو اور اللہ کے دیے ہوئے رزق پر لوگوں کی تعریف کرو اور اگر اللہ نہ دے تو لوگوں کی مذمت کرنے لگو۔ یاد رکھو اللہ کے رزق کو نہ کسی حریص کا حرص کھینچ سکتا ہے اور نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اُسے روک سکتی ہے۔"
اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اُس سے راضی ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے خوش رکھتا ہے اور جو شخص اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دیتا ہے۔" اسے ابن حبّان نے اپنی کتاب 'صحیح ابن حبان' میں روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں سورہ آل عمران کی اُس آیت کی تفسیر ہے ﴿جس میں اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنے کی ترغیب دی گئی ہے﴾۔
دوسرا مسئلہ: یہاں سورہ توبہ کی مذکورہ دو آیتوں کی تفسیر ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس میں سورہ العنکبوت کی اُس آیت کی بھی تفسیر ہے ﴿جس میں اللہ پر کمزور ایمان رکھنے والوں کا تذکرہ ہے﴾۔
چوتھا مسئلہ: یقین کبھی کمزور ہوتا ہے تو کبھی قوی۔
پانچواں مسئلہ: یقین کی کمزوری کی کچھ علامتیں بھی ہوتی ہیں۔ یہاں تین علامتوں کا ذکر ہے۔
چھٹا مسئلہ: صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ایک دینی فریضہ ہے۔
ساتواں مسئلہ: یہاں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے ثواب کا ذکر ہے۔
آٹھواں مسئلہ: جس کے اندر خوفِ الٰہی نہ ہو، اس کی سزا کا بیان ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23]
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔