اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرجُونَ رَحْمَتَهُ ويَخافُونَ عَذَابَهُ إنَّ عذابَ رَبِّكَ كَانَ مَحذُورًا﴾ [الإِسْرَاء:۵۷]
“جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں، خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو جائے، وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔”
نیز فرمایا: ﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ (۲۶) إِلاَّ الَّذِي فَطَرَنِي فَإنَّهُ سَيَهدِيْنِ (۲۷) وَجعلَها كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُف:۲۶-۲۸]
“اور جب کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو، بجز اس ذات کے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی بھی کرے گا، اور -ابراہیم علیہ السلام- اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے؛ تاکہ لوگ ﴿شرک سے﴾ باز آتے رہیں۔”
نیز فرمایا: ﴿اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللهِ وَالمَسِيحَ ابنَ مَرْيمَ وَمَا أُمِرُوا إلاَّ لِيعبُدوا إلهًا وَاحِدًا لا إلهَ إلاَّ هُوَ سُبحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [التَّوْبَةُ: ۳۱]
“ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی برحق معبود نہیں، وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔”
نیز فرمایا: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللهِ وَالَّذِينَ ءامَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّه﴾ [الْبَقَرَة:۱۶۵]
“بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے رکھتے ہیں اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔”
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔''
آئندہ ابواب اس باب کے مضمون کی تشریح پر مبنی ہیں۔
اس باب میں کئی اہم ترین اور عظیم مسائل ہیں، جن میں سب سے اہم مندرجہ ذیل ہیں
اس باب میں مسئلہ توحید اور کلمہ شہادت ﴿لا الہ الا اللہ﴾ کی تفسیر ہے، جسے صریح آیات اور احادیث کی روشنی میں واضح کر دیا گیا ہے:
ان میں سورہ الاسراء کی آیت بھی شامل ہے، جس میں ان مشرکین کی تردید کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بزرگوں کو پکارتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہ شرکِ اکبر ہے۔
ان کے اندر سورہ براءۃ ﴿التوبہ﴾ کی آیت بھی شامل ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ اہلِ کتاب نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے علما اور بزرگوں کو رب بنا رکھا تھا، جب کہ انہیں صرف اور صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ حالاں کہ اس آیت کی واضح تفسیر جس میں کوئی اشکال یا ابہام نہیں ہے، یہ ہے کہ اہلِ کتاب اپنے علما اور بزرگوں کو پکارتے نہیں تھے، بلکہ معصیت اور گناہ کے کاموں میں ان کی اطاعت کرتے تھے۔
ان میں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا کفار سے یہ کہنا بھی شامل ہے: ﴿میں تمہارے معبودوں سے بے زار اور لاتعلق ہوں، سوائے اس ہستی کے، جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔﴾ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے کفار کے معبودانِ باطلہ سے اپنے رب کو مستثنیٰ کر لیا۔ یہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ براءت و بیزاری اور یہ موالات و محبت ہی کلمۂ شہادت 'لا الہ الا اللہ' کی تفسیر ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے: ﴿اور ﴿ابراہیم علیہ السلام﴾ اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے؛ تاکہ لوگ ﴿شرک سے﴾ باز آتے رہیں۔﴾
ان کے اندر سورۃ البقرۃ کی وہ آیت بھی شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں نازل کی ہے: ﴿اور وہ جہنم کی آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں۔﴾ اللہ نے بتایا ہے کہ وہ اپنے شریکوں سے اللہ ہی کی طرح محبت کرتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کفار بھی اللہ سے بڑی محبت کرتے تھے، مگر اُن کی یہ محبت انہیں حلقہ بگوش اسلام نہ کر سکی۔ تو اس کا کیا حال ہو گا جو اپنے بنائے ہوئے اللہ کے ساجھی اور شریک سے اللہ سے زیادہ محبت کرتا ہو۔
ایسے میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ صرف ساجھی اور شریک سے محبت کرنے والوں ساتھ ہی اللہ سے محبت نہ کرنے والوں کا کیا حال ہو گا؟
ان میں سے ایک دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے: ''جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔''
یہ فرمان نبوی اُن عظیم دلائل میں سے ایک ہے، جو کلمۂ توحید 'لا الہ الا اللہ' کے معنی و مفہوم کو واضح کرتے ہیں کہ اس کلمہ کو محض زبان سے ادا کر لینے، اس کی معرفت حاصل کر لینے، اس کا اقرار کر لینے اور صرف ایک اللہ کو پکارنے سے جان و مال کو امان اور تحفظ نہیں مل جاتا، بلکہ اس کے ساتھ جب تک معبودانِ باطلہ کا انکار نہ کیا جائے، امان نہیں مل سکتی! اگر کسی نے ان باتوں میں سے کسی میں بھی ذرا سا شک یا توقف کیا، تو اس کی جان اور مال کو تحفظ و امان حاصل نہیں ہو سکے گا! یہ مسئلہ کس قدر عظیم اور بڑا ہے!
اور یہ کتنا واضح اور مخالفین کے لیے کتنی بڑی قاطع دلیل کی حیثیت رکھتا ہے!
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے
← پچھلا باب
باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا