Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۶ / ۶۷

باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرجُونَ رَحْمَتَهُ ويَخافُونَ عَذَابَهُ إنَّ عذابَ رَبِّكَ كَانَ مَحذُورًا﴾ [الإِسْرَاء:۵۷]

“جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں، خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو جائے، وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہی ہے۔”

نیز فرمایا: ﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ (۲۶) إِلاَّ الَّذِي فَطَرَنِي فَإنَّهُ سَيَهدِيْنِ (۲۷) وَجعلَها كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الزُّخْرُف:۲۶-۲۸]

“اور جب کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو، بجز اس ذات کے، جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری رہنمائی بھی کرے گا، اور -ابراہیم علیہ السلام- اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے؛ تاکہ لوگ ﴿شرک سے﴾ باز آتے رہیں۔”

نیز فرمایا: ﴿اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللهِ وَالمَسِيحَ ابنَ مَرْيمَ وَمَا أُمِرُوا إلاَّ لِيعبُدوا إلهًا وَاحِدًا لا إلهَ إلاَّ هُوَ سُبحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [التَّوْبَةُ: ۳۱]

“ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی برحق معبود نہیں، وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔”

نیز فرمایا: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللهِ وَالَّذِينَ ءامَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّه﴾ [الْبَقَرَة:۱۶۵]

“بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے رکھتے ہیں اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔”

ایک صحیح حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے، ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔''

آئندہ ابواب اس باب کے مضمون کی تشریح پر مبنی ہیں۔

اس باب میں کئی اہم ترین اور عظیم مسائل ہیں، جن میں سب سے اہم مندرجہ ذیل ہیں

اس باب میں مسئلہ توحید اور کلمہ شہادت ﴿لا الہ الا اللہ﴾ کی تفسیر ہے، جسے صریح آیات اور احادیث کی روشنی میں واضح کر دیا گیا ہے:

ان میں سورہ الاسراء کی آیت بھی شامل ہے، جس میں ان مشرکین کی تردید کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بزرگوں کو پکارتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہ شرکِ اکبر ہے۔

ان کے اندر سورہ براءۃ ﴿التوبہ﴾ کی آیت بھی شامل ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے واضح انداز میں فرمایا ہے کہ اہلِ کتاب نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے علما اور بزرگوں کو رب بنا رکھا تھا، جب کہ انہیں صرف اور صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ حالاں کہ اس آیت کی واضح تفسیر جس میں کوئی اشکال یا ابہام نہیں ہے، یہ ہے کہ اہلِ کتاب اپنے علما اور بزرگوں کو پکارتے نہیں تھے، بلکہ معصیت اور گناہ کے کاموں میں ان کی اطاعت کرتے تھے۔

ان میں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا کفار سے یہ کہنا بھی شامل ہے: ﴿میں تمہارے معبودوں سے بے زار اور لاتعلق ہوں، سوائے اس ہستی کے، جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔﴾ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے کفار کے معبودانِ باطلہ سے اپنے رب کو مستثنیٰ کر لیا۔ یہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ براءت و بیزاری اور یہ موالات و محبت ہی کلمۂ شہادت 'لا الہ الا اللہ' کی تفسیر ہے۔ چنانچہ اس کا فرمان ہے: ﴿اور ﴿ابراہیم علیہ السلام﴾ اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے؛ تاکہ لوگ ﴿شرک سے﴾ باز آتے رہیں۔﴾

ان کے اندر سورۃ البقرۃ کی وہ آیت بھی شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں نازل کی ہے: ﴿اور وہ جہنم کی آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں۔﴾ اللہ نے بتایا ہے کہ وہ اپنے شریکوں سے اللہ ہی کی طرح محبت کرتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کفار بھی اللہ سے بڑی محبت کرتے تھے، مگر اُن کی یہ محبت انہیں حلقہ بگوش اسلام نہ کر سکی۔ تو اس کا کیا حال ہو گا جو اپنے بنائے ہوئے اللہ کے ساجھی اور شریک سے اللہ سے زیادہ محبت کرتا ہو۔

ایسے میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ صرف ساجھی اور شریک سے محبت کرنے والوں ساتھ ہی اللہ سے محبت نہ کرنے والوں کا کیا حال ہو گا؟

ان میں سے ایک دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی ہے: ''جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔''

یہ فرمان نبوی اُن عظیم دلائل میں سے ایک ہے، جو کلمۂ توحید 'لا الہ الا اللہ' کے معنی و مفہوم کو واضح کرتے ہیں کہ اس کلمہ کو محض زبان سے ادا کر لینے، اس کی معرفت حاصل کر لینے، اس کا اقرار کر لینے اور صرف ایک اللہ کو پکارنے سے جان و مال کو امان اور تحفظ نہیں مل جاتا، بلکہ اس کے ساتھ جب تک معبودانِ باطلہ کا انکار نہ کیا جائے، امان نہیں مل سکتی! اگر کسی نے ان باتوں میں سے کسی میں بھی ذرا سا شک یا توقف کیا، تو اس کی جان اور مال کو تحفظ و امان حاصل نہیں ہو سکے گا! یہ مسئلہ کس قدر عظیم اور بڑا ہے!

اور یہ کتنا واضح اور مخالفین کے لیے کتنی بڑی قاطع دلیل کی حیثیت رکھتا ہے!

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app