ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اس ہستی کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابن عمر کی جان ہے! اگر کسی انسان کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے استدلال کیا: "اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی و بُری تقدیر پر ایمان لانا, ان تمام باتیں سے ایمان کی تعریف پوری ہوتی ہے۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کا مزہ ہر گز نہیں پا سکتے، جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے، وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا، اور جو کچھ نہیں ملا ہے، ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: "سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ۔ قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ۔" اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: "جو اس کے علاوہ ﴿کسی اور عقیدے پر﴾ مرا، وہ مجھ سے نہیں۔"
اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے: "اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، چنانچہ اس نے اسی وقت قیامت تک ہونے والی ہر بات لکھ دی۔"
اور ابن وہب کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "پس جو شخص اچھی بُری تقدیر پر ایمان نہیں لایا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں جلائے گا۔"
مسند امام احمد اور سنن میں ابن دیلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے! لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے، جس کے بارے میں یہ امید ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا۔ انہوں نے کہا: اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو، تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا، جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں نہیں پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے، تو ضرور جہنمیوں میں سے ہو گے۔ ابن دیلمی کہتے ہیں کہ پھر میں عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اجمعین کے پاس آیا، تو ان سب نے مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث سنائی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام حاکم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں اس بات کا بیان ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے۔
دوسرا مسئلہ: اسی طرح تقدیر پر ایمان لانے کی کیفیت کا بھی ذکر ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس سے پتہ چلتا ہے کہ تقدیر پر ایمان نہ رکھنے والے کے اعمال اکارت چلے جاتے ہیں۔
چوتھا مسئلہ: یہاں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک ایمان کی حلاوت سے محظوظ نہیں ہو سکتا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہیں لے آتا۔
پانچواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس چیز کی تخلیق فرمائی، اس کا یہاں ذکر ہے۔
چھٹا مسئلہ: اس بات کا ذکر ہے کہ قلم نے اسی وقت قیامت تک ہونے والے سارے امور لکھ ڈالے تھے۔
ساتواں مسئلہ: تقدیر پر ایمان نہ لانے والے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی براءت کا اظہار کیا ہے۔
آٹھواں مسئلہ: سلف کی عادت تھی کہ وہ اہلِ علم سے استفسار کر کے اپنے شبہات دور کر لیا کرتے تھے۔
نواں مسئلہ: علما نے ان کو ایسا جواب دیا جو تقدیر سے متعلق ان کے جملہ شبہات کا ازالہ کر دے, بایں طور کہ اپنے دلائل کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: تصویر بنانے والوں کا حکم
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔