ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے۔ اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے، تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے، اس کی دعوت قبول کرو، اور جو تم پر احسان کرے، تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو، جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔"
اسے بو داؤد اور نسائی نے بسند صحیح روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگنے والے کو پناہ دی جائے۔
دوسرا مسئلہ: اللہ کا واسطہ دے کر بھیک مانگنے والے کو دے دینا چاہیے۔
تیسرا مسئلہ: دعوت قبول کرنی چاہیے۔
چوتھا مسئلہ: بھلائی اور حسنِ سلوک کا بدلہ دینا چاہیے۔
پانچواں مسئلہ: جو کسی کے احسان کا مادی بدلہ نہیں دے سکتا، اُس کے حق میں محسن کے لئے دعا کرنا ہی بدلہ دینا ہے۔
چھٹا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «حَتّٰی تَرَوْا اَنَّکُمْ قَدْ کَافَاْتُمُوہُ» سے معلوم ہوتا ہے کہ احسان کرنے والے کے حق میں اس قدر دعا کرنی چاہیے کہ یقین ہو جائے کہ اب بدلہ پورا ہو چکا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔
← پچھلا باب
باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت