باب ۱۱ / ۶۷
باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لاَ تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقـوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أن تَقُومَ فِيهِ فيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أن يَتَطَهَّرُوا وَاللهُ يُحِبُّ المُطَّهِّرِينَ﴾ [التَّوْبَة:۱۰۸]
“آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔”
ثابت بن ضحّاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ چنانچہ جب اُس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بُت تھا، جس کی اُس وقت پرستش کی جاتی رہی ہو؟» لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: "کیا وہاں مشرکین کا کوئی میلہ لگتا تھا؟" انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم اپنی نذر پوری کرلو۔ یاد رکھو، جو نذر اللہ تعالیٰ کی معصیت پر مبنی ہو، اسے پورا کرنا درست نہیں اور اسی طرح جس نذر کو پورا کرنا انسان کے بس میں نہ ہو، اسے بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔" اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اس میں آیت کریمہ ﴿لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا﴾ الخ کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: اللہ کی اطاعت و نافرمانی بسا اوقات زمین پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
تیسرا مسئلہ: کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہو تو اُسے سمجھانے کے لیے دوسرا واضح مسئلہ پیش کرنا چاہیے، تاکہ اشکال دور ہو جائے۔
چوتھا مسئلہ: بوقتِ ضرورت مفتی سائل سے ﴿پیش آمدہ مسائل کے بارے میں﴾ تفصیلات طلب کر سکتا ہے۔
پانچواں مسئلہ: کسی خاص جگہ کو منت اور نذر ماننے کے لیے مخصوص کرنے میں کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔
چھٹا مسئلہ: نذر پوری کرنے کے لیے وہ جگہ ممنوع ہے، جہاں زمانۂ جاہلیت میں کوئی بُت رہا ہو، خواہ اُسے اب وہاں سے ختم کر دیا گیا ہو۔
ساتواں مسئلہ: نیز ایسی جگہ پر نذر پوری نہیں کی جا سکتی، جہاں مشرکین کا کوئی میلہ یا تہوار منایا جاتا ہو، گرچہ اب وہ سلسلہ ختم ہو گیا ہو۔
آٹھواں مسئلہ: اگر کسی نے اس طرح کی جگہوں میں کچھ کرنے کی نذر مانی، تو اسے پورا کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ نافرمانی کی نذر ہے۔
نواں مسئلہ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تہوار کے معاملے میں بھی مشرکوں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، گرچہ ان کی مشابہت بذات خود مقصود ہو۔
دسواں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کی معصیت والی نذر جائز نہیں ہے۔
گیارہواں مسئلہ: جو امر انسان کی وسعت اور طاقت میں نہ ہو، اس کی نذر ماننا بھی جائز نہیں ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس