باب ۱۹ / ۶۷
باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔
اللہ عز و جل کا فرمان ہے: ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِي دِينِكُمْ ولا تَقُولُوا عَلَى اللهِ إلاَّ الحقَّ إنما المَسِيحُ عِيسى ابنُ مَرْيمَ رَسُولُ اللهِ وكَلِمَتُهُ ألْقَاها إِلَى مَرْيمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ﴾ [النِّسَاء:۱۷۱]
“اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں غلو نہ کرو اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ بن مریم ﴿علیہ السلام﴾ تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ ﴿کن سے پیدا شدہ﴾ ہیں، جسے مریم ﴿علیہا السلام﴾ کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں۔”
صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿اور کہا انہوں نے کہ ہر گز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ وَد اور نہ سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔﴾ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: [سورہ نُوح:۲۳] ”یہ سب قوم نوح کے بزرگ لوگ تھے۔ جب وہ سب مر گئے، تو شیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہ نیک لوگ جہاں بیٹھا کرتے تھے، وہاں بطورِ یادگار پتھر نصب کر دو اور ان پتھروں کو ان کے ناموں سے موسوم کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تاہم اُن پتھروں کو پوجا اس وقت شروع نہیں ہوئی۔ لیکن جب وہ لوگ مر گئے اور علم اٹھا لیا گیا، تو ان کی پرستش کرنا شروع ہو گئی۔“
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سلف میں سے کئی حضرات فرماتے ہیں: جب وہ سب مر گئے، تو اُن کی قبروں پر وہ مجاور بن کر بیٹھ گئے اور پھر ان کے اسٹیچو بنا لیے۔ لیکن جب لمبا وقت گزر گیا، تو ان کی عبادت کرنے لگے۔“
اور عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری تعریف میں حد سے نہ گزرو، جیسے نصاریٰ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض ایک بندہ ہوں۔ اس لیے کہو کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلو سے بچو۔ کیوں کہ تم سے پہلے لوگوں کو غلو ہی نے ہلاک کیا ہے۔“
صحیح مسلم میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حد سے تجاوز کرنے والے اور بہ تکلف سختی اپنانے والے ہلاک ہو گئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار کہی۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: جو شخص اس باب اور اس کے بعد کے دو ابواب کو سمجھ لے گا، اس کے سامنے اسلام کی اجنبیت واضح ہو جائے گی۔ اور اسے اللہ کی قدرت اور دلوں کو پھیرنے میں اس کے عجیب و غریب کرشمے نظر آئیں گے۔
دوسرا مسئلہ: یہاں یہ معلوم ہوا کہ روئے زمین پر سب سے پہلا شرک بزرگوں کی شان میں مغالطے کی وجہ سے رونما ہوا۔
تیسرا مسئلہ: یہ بھی معلوم ہوا کہ سب سے پہلے کس چیز کے ذریعے انبیا کے دین کو بدلا گیا اور اللہ کے بھیجے ہوئے ان نبیوں کے لائے ہوئے دین میں تبدیلی کے کیا اسباب تھے۔
چوتھا مسئلہ: لوگ بدعات و خرافات کو جلد قبول کر لیتے ہیں، حالاں کہ الٰہی شریعتیں اور فطرتِ سلیمہ ان چیزوں کو قبول نہیں کرتی۔
پانچواں مسئلہ: شرک شروع ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حق اور باطل کو باہم خلط ملط کر دیا گیا تھا۔ اور اس کے دو اسباب تھے: پہلا سبب: بزرگوں کی محبت میں غلو۔ دوسرا سبب: بعض اہلِ علم اور دین پسند لوگوں کے ایسے کام، جنہیں انہوں نے اچھا سمجھ کر انجام دیا، مگر بعد میں آنے والوں نے سمجھا کہ ان کا اس کام سے مقصد کچھ اور ہی تھا۔
چھٹا مسئلہ: یہاں سورہ نوح کی اس آیت کی تفسیر بیان کر دی گئی ہے، جس میں مختلف بتوں کے نام ہیں۔
ساتواں مسئلہ: انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ اس کے دل میں حق کے اثرات گھٹتے ہیں اور باطل کے اثرات بڑھتے ہیں۔
آٹھواں مسئلہ: اس سے سلف کے اس قول کا ثبوت ملتا ہے کہ بدعتیں کفر کا سبب بنتی ہیں۔
نواں مسئلہ: شیطان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ بدعت کا انجام کار کیا ہے، گرچہ بدعت کو رائج کرنے والے کی نیت اچھی ہی کیوں نہ رہی ہو۔
دسواں مسئلہ: اس سے ایک کلی قاعدہ اور اصول ثابت ہوتا ہے کہ غلو سے بچنا چاہیے اور غلو تک لے جانے والے امور کو بھی جاننا چاہیے۔
گیارہواں مسئلہ: کسی بزرگ کی قبر پر کوئی نیک عمل کرنے کے لیے بیٹھنا انتہائی نقصان دہ ہے۔
بارہواں مسئلہ: مجسمہ سازی کی ممانعت اور ان کو ختم کرنے کی حکمت کی معرفت۔
تیرہواں مسئلہ: اس سے آغازِ شرک کی کہانی کی خطورت سمجھ میں آتی ہے اور اسے جاننے کی ضرورت کا بھی علم ہوتا ہے، جب کہ اکثر لوگ اس سے غافل اور ناآشنا ہیں۔
چودہواں مسئلہ: کتنے تعجب کی یہ بات ہے کہ لوگ اس قصہ کو تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں پڑھتے ہیں اور اس کا مفہوم بھی سمجھتے ہیں، لیکن اللہ نے ان کو حق تک پہونچنے سے دور رکھا اور انھوں نے یہ عقیدہ پال لیا کہ نوح علیہ السلام کی قوم کا یہ عمل افضل ترین عبادت ہے اور یہ عقیدہ بھی رکھنے لگے کہ جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے وہ جان اور مال کو مباح کرنے والا کفر ہے۔
پندرہواں مسئلہ: یہاں اس بات کی صراحت ہے کہ اُن بتوں کی پرستش کرنے والوں کا ارادہ صرف یہ تھا کہ یہ بزرگ ہمارے سفارشی ہیں۔
سولہواں مسئلہ: بعد کے مشرکوں کو یہ وہم ہو گیا کہ اُن کے سابق علما نے ان بزرگوں کی تصویریں عبادت کے لیے بنائی تھیں۔
سترہواں مسئلہ: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں بہت بڑی اور اہم بات کہی ہے: ”تم میری تعریف میں اس طرح مبالغہ نہ کرنا، جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کی شان میں کیا تھا۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کا درود و سلام نازل ہو، بلاشبہ آپ نے واضح طور پر تبلیغ کا حق ادا کر دیا تھا۔
اٹھارہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر بہ تکلف سختی اپنانے والوں اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہلاکت کی خبر دے کر ہماری بڑی خیر خواہی کی ہے۔
سترہواں مسئلہ: یہاں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ علم ختم ہونے کے بعد ہی بتوں کی پرستش شروع ہوئی تھی، جس سے علم کی اہمیت اور علم کے فراموش کر دیے جانے کے نقصان کا پتہ چلتا ہے۔
بیسواں مسئلہ: علما کی موت علم کے ناپید ہو جانے کا سبب ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56]