اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَـنِ قُلْ هُوَ رَبي لا إلَهَ إلاَّ هُوَ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وإليهِ مَتَابِ﴾ [الرَّعْدُ:۳۰]
“یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرا پالنے والا تو وہی ہے۔ اس کے سوا در حقیقت کوئی بھی لائق عبادت نہیں۔ اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے” [سورہ الرعد:۳۰].
اور صحیح بخاری میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «لوگوں کو وہی باتیں بتاؤ، جو ان کے فہم و شعور کے معیار کی ہوں۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا جائے؟»
عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابن طاؤس سے اور انہوں نے اپنے باپ طاؤس سے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب اس نے اللہ کی صفات کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنی، تو بطور انکار اس پر جھر جھری طاری ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا: ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم نصوص سن کر توان پر رقت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب کوئی متشابہ نص سنتے ہیں، تو ہلاک ہو جاتے ہیں ﴿یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں﴾۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات ختم ہو گئی۔
اسی طرح جب قریشِ مکہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمٰن کاذکر کرتے سُنا، تو انہوں نے اس ﴿صفت﴾ کا انکار کر دیا، جس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔﴾ [سورہ الرعد:۳۰]۔ ﴿یہ رحمٰن کے منکر ہیں۔﴾ [سورہ الرعد:۳۰]۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ کے اسما و صفات میں سے کسی کاانکار کرنے سے ایمان جاتار ہتاہے۔
دوسرا مسئلہ: اس میں سورہ الرعد کی اُس آیت کی تفسیر ہے ﴿جس میں اللہ کی صفتِ رحمٰن کا ذکر ہے۔﴾
تیسرا مسئلہ: سننے والے کے اندر جس بات کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو، ویسی بات نہیں کرنی چاہیے۔
چوتھا مسئلہ: اس بات کے سبب کو یہاں بیان کر دیا ہے کہ ایسی بات جو سامع نہ سمجھ پائے، اس سے معاملہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب تک پہونچ جاتا ہے، اگرچہ انکار کرنے والے کاارادہ تکذیب کانہ ہو۔
پانچواں مسئلہ: یہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کاتذکرہ ہے، جو انہوں نے اللہ کے اسما یا صفات میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنے والے کے بارے میں کہی تھی, اور اس بات کا بیان بھی ہے کہ ایسی بات اس کو برباد کر دے گی۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83]
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾