اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـهُكُمْ إِلَـهٌ وَاحِدٌ فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعَبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الْكَهْفُ:۱۱۰]
﴿اے نبی﴾ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں۔ ﴿ہاں﴾ میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو، اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ [سورۃ الکہف:۱۱۰]۔
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: "اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں تمام شرکا کی بہ نسبت شرک سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ کوئی شخص جب کوئی عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کرتا ہے، تو میں اسے اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: "کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جس کا خوف مجھے تمہارے بارے میں مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟" لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ضرور بتلائیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ شرک خفی ہے؛ بایں طور کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز محض اس لیے اچھی طرح پڑھے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے۔" اسے احمد نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: سورۃ الکہف کی مذکورہ آیت کی تفسیر۔
دوسرا مسئلہ: اس بڑی بات کا بیان کہ عملِ صالح میں اگر غیر اللہ کے لئے معمولی سی چیز بھی دخل ہو جائے، تو وہ برباد اور اکارت چلا جاتا ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس بات کے سبب کا بیان, جو یہ ہے کہ اللہ تعالی لئے صفت کمال بے نیازی ہے۔
چوتھا مسئلہ: ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کیے جانے والے تمام شریکوں سے افضل و بہتر ہے۔
پانچواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کے بارے میں بھی ریاکاری کا خدشہ تھا۔
چھٹا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاکاری کی تشریح اس طرح کی ہے کہ کوئی شخص نماز اس لیے اچھی طرح پڑھے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے