Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۳ / ۶۷

باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا للهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [النَّحْل: ۱۲۰]

“بے شک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔”

مزید فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمْ لاَ يُشْرِكُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُون:۵۹]

“اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔”

حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں ایک بار سعید بن جبیر کے پاس حاضر تھا کہ انہوں نے کہا: «گزشتہ رات ٹوٹنے والے ستارے کو تم میں سے کس نے دیکھا؟ تو میں نے کہا: میں نے۔ پھر یہ بھی کہا: میں اس وقت نماز میں مشغول نہیں تھا، بلکہ مجھے کسی چیز نے ڈس لیا تھا۔ سعید بن جبیر نے پوچھا: تو پھر تم نے کیا کیا؟ میں کہا: میں نے دَم کر لیا تھا۔ انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو میں نے جواب میں کہا: ہمیں شعبی نے ایک حدیث بیان کی، اس کی وجہ سے میں نے دَم کیا تھا۔ سعید بن جبیر نے پھر پوچھا: شعبی نے تم سے کون سی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا کہ انہوں نے ہم سے بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا: "نظرِ بد اور کسی زہریلی چیز کے کاٹنے کے سوا کسی اور صورت میں دم جائز نہیں۔" اس پر سعید بن جبیر نے کہا: جس نے جو سنا، پھر اس پر عمل کیا، اس نے بہت ہی اچھا کیا۔ البتہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے: «میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں؛ میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ کچھ آدمی تھے، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمی تھے اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پھر میرے سامنے انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی۔ میں نے سوچا یہ میری امت ہے۔ لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ اور ان کے امتی ہیں۔ پھر میں نے دیکھا تو ایک دوسری بہت بڑی جماعت دکھائی دی۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت کے لوگ ہیں۔ ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہوں گے، جو بلا حساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔" اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے۔ جب کہ کچھ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کسی کو اللہ کا ساجھی نہیں ٹھہرایا۔ انھوں نے اور بھی کئی باتوں کا چرچا کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس آئے اور صحابہ نے اس کی اطلاع آپ کو دی، تو فرمایا: "یہ وہ لوگ ہوں گے، جو نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ علاج کے لئے اپنے جسم پر دَغواتے ہیں، نہ بد شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔» یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم بھی انہیں میں سے ہو۔" اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عکاشہ اس معاملے میں تم سے سبقت کر گئے۔»

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: یہ بات معلوم ہوئی کہ توحید کے بارے میں لوگوں کے درجات و مراتب مختلف ہیں۔

دوسرا مسئلہ: معلوم ہوا کہ توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے کیا معنی ہیں؟

تیسرا مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اس بات پر تعریف فرمائی ہے کہ وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

چوتھا مسئلہ: ساداتِ اولیا کی بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے شرک سے بے زار ہونے کی بنا پر مدح و ستائش کی ہے۔

پانچواں مسئلہ: جھاڑ پھونک اور جسم داغنے کے طریقۂ علاج کو بروئے کار نہ لانا توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے میں داخل ہے۔

چھٹا مسئلہ: مذکورہ اوصاف کا جامع توکل ہے۔

ساتواں مسئلہ: اس سے صحابہ کرام کے علم کی گہرائی کا بھی علم ہوتا ہے، کیوں کہ انھیں پتہ تھا کہ ان کو یہ بلند مراتب و درجات صرف عمل کی بدولت حاصل ہوئے ہیں۔

آٹھواں مسئلہ: صحابہ کرام خیر اور نیکی کے کاموں کے حریص تھے۔

نواں مسئلہ: اس سے تعداد اور کیفیت کے لحاظ سے اس امت کی دیگر امتوں پر برتری اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

دسواں مسئلہ: اس سے موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

گیارہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمام امتیں پیش کی گئی تھیں۔

بارہواں مسئلہ: ہر اُمت کے لوگوں کو ان کے نبیوں کے ساتھ الگ الگ طور پر جمع کیا جائے گا۔

تیرہواں مسئلہ: انبیا کی دعوت قبول کرنے والے لوگ ہمیشہ کم رہے ہیں۔

چودہواں مسئلہ: جس نبی کی دعوت کو ایک شخص نے بھی نہیں مانا، وہ اکیلا ہی آئے گا۔

پندرہواں مسئلہ: اس علم کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کثرتِ تعداد پر اِترانا نہیں چاہیے اور قلتِ تعداد سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے۔

سولہواں مسئلہ: نظرِ بد اور زہریلے جانور کے ڈسنے پر دَم کرنا جائز ہے۔

سترہواں مسئلہ: سعید بن جبیر کے قول «قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ كَذَا وَكَذَا» «جس نے اپنی شنید کے مطابق عمل کیا، اس نے اچھا کیا» سے سلفِ صالحین کی علمی گیرائی کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث دوسری حدیث کے برخلاف نہیں۔

اٹھارہواں مسئلہ: سلفِ صالحین کسی کی بے جا تعریف کرنے سے پرہیز کیا کرتے تھے۔

سترہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکاشہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ «أَنْتَ مِنْهُمْ» «تم اُن میں سے ہو» نبوت کے دلائل میں سے ہے۔

بیسواں مسئلہ: اس سے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

اکیسواں مسئلہ: اشارہ و کنایہ میں گفتگو کرنا جائز ہے۔

بائیسواں مسئلہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حُسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app