اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا للهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [النَّحْل: ۱۲۰]
“بے شک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔”
مزید فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمْ لاَ يُشْرِكُونَ﴾ [الْمُؤْمِنُون:۵۹]
“اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔”
حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں ایک بار سعید بن جبیر کے پاس حاضر تھا کہ انہوں نے کہا: «گزشتہ رات ٹوٹنے والے ستارے کو تم میں سے کس نے دیکھا؟ تو میں نے کہا: میں نے۔ پھر یہ بھی کہا: میں اس وقت نماز میں مشغول نہیں تھا، بلکہ مجھے کسی چیز نے ڈس لیا تھا۔ سعید بن جبیر نے پوچھا: تو پھر تم نے کیا کیا؟ میں کہا: میں نے دَم کر لیا تھا۔ انہوں نے مجھ سے پھر پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو میں نے جواب میں کہا: ہمیں شعبی نے ایک حدیث بیان کی، اس کی وجہ سے میں نے دَم کیا تھا۔ سعید بن جبیر نے پھر پوچھا: شعبی نے تم سے کون سی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا کہ انہوں نے ہم سے بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انھوں نے فرمایا: "نظرِ بد اور کسی زہریلی چیز کے کاٹنے کے سوا کسی اور صورت میں دم جائز نہیں۔" اس پر سعید بن جبیر نے کہا: جس نے جو سنا، پھر اس پر عمل کیا، اس نے بہت ہی اچھا کیا۔ البتہ ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے: «میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں؛ میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ کچھ آدمی تھے، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمی تھے اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پھر میرے سامنے انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت نظر آئی۔ میں نے سوچا یہ میری امت ہے۔ لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ اور ان کے امتی ہیں۔ پھر میں نے دیکھا تو ایک دوسری بہت بڑی جماعت دکھائی دی۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت کے لوگ ہیں۔ ان کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہوں گے، جو بلا حساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔" اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے۔ جب کہ کچھ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے کسی کو اللہ کا ساجھی نہیں ٹھہرایا۔ انھوں نے اور بھی کئی باتوں کا چرچا کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس آئے اور صحابہ نے اس کی اطلاع آپ کو دی، تو فرمایا: "یہ وہ لوگ ہوں گے، جو نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ علاج کے لئے اپنے جسم پر دَغواتے ہیں، نہ بد شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔» یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم بھی انہیں میں سے ہو۔" اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عکاشہ اس معاملے میں تم سے سبقت کر گئے۔»
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہ بات معلوم ہوئی کہ توحید کے بارے میں لوگوں کے درجات و مراتب مختلف ہیں۔
دوسرا مسئلہ: معلوم ہوا کہ توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے کیا معنی ہیں؟
تیسرا مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اس بات پر تعریف فرمائی ہے کہ وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
چوتھا مسئلہ: ساداتِ اولیا کی بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے شرک سے بے زار ہونے کی بنا پر مدح و ستائش کی ہے۔
پانچواں مسئلہ: جھاڑ پھونک اور جسم داغنے کے طریقۂ علاج کو بروئے کار نہ لانا توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے میں داخل ہے۔
چھٹا مسئلہ: مذکورہ اوصاف کا جامع توکل ہے۔
ساتواں مسئلہ: اس سے صحابہ کرام کے علم کی گہرائی کا بھی علم ہوتا ہے، کیوں کہ انھیں پتہ تھا کہ ان کو یہ بلند مراتب و درجات صرف عمل کی بدولت حاصل ہوئے ہیں۔
آٹھواں مسئلہ: صحابہ کرام خیر اور نیکی کے کاموں کے حریص تھے۔
نواں مسئلہ: اس سے تعداد اور کیفیت کے لحاظ سے اس امت کی دیگر امتوں پر برتری اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
دسواں مسئلہ: اس سے موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
گیارہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمام امتیں پیش کی گئی تھیں۔
بارہواں مسئلہ: ہر اُمت کے لوگوں کو ان کے نبیوں کے ساتھ الگ الگ طور پر جمع کیا جائے گا۔
تیرہواں مسئلہ: انبیا کی دعوت قبول کرنے والے لوگ ہمیشہ کم رہے ہیں۔
چودہواں مسئلہ: جس نبی کی دعوت کو ایک شخص نے بھی نہیں مانا، وہ اکیلا ہی آئے گا۔
پندرہواں مسئلہ: اس علم کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کثرتِ تعداد پر اِترانا نہیں چاہیے اور قلتِ تعداد سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے۔
سولہواں مسئلہ: نظرِ بد اور زہریلے جانور کے ڈسنے پر دَم کرنا جائز ہے۔
سترہواں مسئلہ: سعید بن جبیر کے قول «قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ كَذَا وَكَذَا» «جس نے اپنی شنید کے مطابق عمل کیا، اس نے اچھا کیا» سے سلفِ صالحین کی علمی گیرائی کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث دوسری حدیث کے برخلاف نہیں۔
اٹھارہواں مسئلہ: سلفِ صالحین کسی کی بے جا تعریف کرنے سے پرہیز کیا کرتے تھے۔
سترہواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکاشہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا کہ «أَنْتَ مِنْهُمْ» «تم اُن میں سے ہو» نبوت کے دلائل میں سے ہے۔
بیسواں مسئلہ: اس سے عکاشہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اکیسواں مسئلہ: اشارہ و کنایہ میں گفتگو کرنا جائز ہے۔
بائیسواں مسئلہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حُسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: شرک سے خوف کا بیان
← پچھلا باب
باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان