باب ۲۲ / ۶۷
باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّم حَرِيصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَءوفٌ رَّحيمٌ﴾ [التَّوْبَةُ:۱۲۸]
“تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں، جو تمہاری جنس سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا ہوا درود مجھ تک پہنچتا ہے، چاہے تم جہاں بھی ہو۔" اسے ابوداؤد نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کے سارے راوی ثقہ ہیں۔
علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس موجود ایک شگاف میں سے اندر داخل ہوتا اور پھر دعا مانگا کرتا۔ چنانچہ انھوں نے اسے اس کام سے روکا اور اس سے کہا: کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں، جو میں نے اپنے اباسے اور انہوں نے میرے دادا سے سنی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ میری قبر کو عید ﴿میلے کی جگہ﴾ نہ بنالینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بنالینا۔ مجھ پر درود بھیجتے رہنا۔ کیوں کہ تمہارا بھیجا ہوا سلام مجھ تک پہنچتا ہے، چاہے تم جہاں بھی ہو۔" اس حدیث کو 'المختارہ' میں روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہاں سورۂ توبہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے۔
دوسرا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امّت کو شرک کی حدود سے انتہائی دور رکھا ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس میں اس بات کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ہدایت کے لیے کس قدر کوشاں اور ہمارے حق میں کس قدر شفیق و مہربان تھے۔
چوتھا مسئلہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اپنی قبر کی زیارت ایک مخصوص انداز میں کرنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ آپ کی قبر کی زیارت افضل ترین اعمال میں سے ہے۔
پانچواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت قبروں کی زیارت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
چھٹا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نفلی نماز ادا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔
ساتواں مسئلہ: صحابہ کے یہاں یہ بات طے شدہ تھی کہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔
آٹھواں مسئلہ: کہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنا کافی ہے، اس کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی کہ جب انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے، توخواہ کتنی ہی دوری پر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کا درود و سلام پہنچا دیا جاتا ہے۔ لہذا اس مقصد سے قبر کے قریب آنے کی چنداں ضرورت نہیں رہ جاتی۔
نواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برزخی زندگی میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اعمال میں سے درود و سلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیے جاتے ہیں۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے
← پچھلا باب
باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔