اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ [الأَنْعَام:۵۱]
“اور ایسے لوگوں کو ڈرایئے، جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی ان شفیع ہوگا، اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں۔”
مزید فرمایا: ﴿قُل للهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا﴾ [الزُّمَر:۴۴]
“کہہ دیجیے کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے۔”
مزید فرمایا: ﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ﴾ [الْبَقَرَة:۲۵۵]
“کون ہے، جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے؟”
مزید فرمایا: ﴿وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لاَ تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَى﴾ [النَّجْم:۲۶]
“آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے، جس کے لیے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔”
مزید فرمایا: ﴿قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللهِ لاَ يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الأَرْضِ ومَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ ومَا لَهُ مِنْهُم مِّنْ ظَهِيرٍ (۲۲) ولا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ﴾ [سَبَأ:۲۲،۲۳]
“کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے، سب کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے، نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ شفاعت ﴿سفارش﴾ بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی، بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہو جائے۔”
ابو العباس علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: 〈اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ ساری مخلوقات کے اندر ان سارے اوصاف کے ہونے کی نفی کر دی ہے، جن کی بنیاد پر مشرکین انھیں پکارا کرتے تھے۔ مثلاً ان کا دنیا کے نظام کو چلانے میں مؤثر ہونا، یا اس میں ان کی کوئی حصے داری ہونا یا اس معاملے میں ان کا اللہ کا معاون ہونا وغیرہ۔ اب صرف شفاعت باقی رہی۔ لیکن اس کے بارے میں بھی واضح کر دیا ہے کہ شفاعت سے اسی کو فائدہ ہوگا، جس کے حق میں اللہ کی جانب سے شفاعت کی اجازت ہو۔ اس کا فرمان ہے: ﴿وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے، بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو-﴾ [سورہ الأَنْبِیَاء:۲۸]۔ چنانچہ یہ سفارش، جس کے زعم میں مشرکین مبتلا ہیں، قیامت کے دن ناپید ہو جائے گی، جیسا کہ قرآن نے اس کی نفی کی ہے، اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضر ہو کر پہلے سفارش کرنے کی بجائے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں گے اور اس کی حمد و ثنا کریں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیں اور بات کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سُنی جائے گی۔ آپ مانگیں، آپ کی مانگیں پوری کی جائیں گی۔ آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔" ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہے، جو آپ کی سفارش کا حق دار ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 〈جس نے خلوصِ دل سے کلمہ 'لا الہ الّا اللہ' کا اقرار کیا ہو گا!〉 اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شفاعت اللہ کی اجازت سے صرف مخلص مؤمنوں کو حاصل ہوگی۔ اُن لوگوں کو قطعی نہیں، جنہوں نے اللہ کا ساجھی ٹھہرایا ہو گا۔ اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ پاک اور برتر اللہ اپنے مخلص مؤمن بندوں کے ساتھ فضل و کرم کا معاملہ کرتے ہوئے، اپنے اس بندے کی دعا کی بدولت، جسے اس کی جانب سفارش کی اجازت کا اعزاز اور مقام محمود حاصل ہو گا، ان کی مغفرت فرما دے گا۔ چنانچہ جس شفاعت کا قرآن نے انکار کیا ہے، اس سے مراد وہ شفاعت ہے، جس میں شرک کی آمیزش ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی اجازت سے شفاعت کا اثبات کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف فرمایا ہے کہ شفاعت صرف اہلِ توحید و اخلاص کے لیے ہو گی۔" علامہ ابن تیمیہ کی بات ختم ہوئی۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: مذکورہ آیتوں کی تفسیر ہوتی ہے۔
دوسرا مسئلہ: یہاں اس شفاعت کی صفت بیان کی گئی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس شفاعت کی بھی صفت موجود ہے، جو قابلِ قبول ہے۔
چوتھا مسئلہ: یہاں شفاعتِ کبرٰی کا بھی ذکر ہے۔ اسی کو مقامِ محمود بھی کہتے ہیں۔
پانچواں مسئلہ: یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے ہی شفاعت نہیں کریں گے، بلکہ سب سے پہلے اللہ کے سامنے سر بسجود ہو جائیں گے اور پھر اللہ کی طرف سے اجازت ملنے پر شفاعت کریں گے۔
چھٹا مسئلہ: یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جنھیں یہ سعادت حاصل لوگی؟
ساتواں مسئلہ: یہ شفاعت مشرکین کو حاصل نہیں ہو گی۔
آٹھواں مسئلہ: شفاعت کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56]
← پچھلا باب
باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23]