Kitab at-Tawheed
Get app

باب ۱۷ / ۶۷

باب: شفاعت کا بیان

لنک کاپی ہو گیا!
غلطی کی نشاندہی کریں
آیت حدیث حوالہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَنذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحْشَرُواْ إِلَى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِيٌّ وَلاَ شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ [الأَنْعَام:۵۱]

“اور ایسے لوگوں کو ڈرایئے، جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی ان شفیع ہوگا، اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں۔”

مزید فرمایا: ﴿قُل للهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا﴾ [الزُّمَر:۴۴]

“کہہ دیجیے کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے۔”

مزید فرمایا: ﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ﴾ [الْبَقَرَة:۲۵۵]

“کون ہے، جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے؟”

مزید فرمایا: ﴿وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لاَ تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَى﴾ [النَّجْم:۲۶]

“آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے، جس کے لیے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے۔”

مزید فرمایا: ﴿قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ اللهِ لاَ يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الأَرْضِ ومَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ ومَا لَهُ مِنْهُم مِّنْ ظَهِيرٍ (۲۲) ولا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ﴾ [سَبَأ:۲۲،۲۳]

“کہہ دیجیے کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے، سب کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذرہ کا اختیار ہے، نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ شفاعت ﴿سفارش﴾ بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی، بجز ان کے جن کے لیے اجازت ہو جائے۔”

ابو العباس علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: 〈اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ ساری مخلوقات کے اندر ان سارے اوصاف کے ہونے کی نفی کر دی ہے، جن کی بنیاد پر مشرکین انھیں پکارا کرتے تھے۔ مثلاً ان کا دنیا کے نظام کو چلانے میں مؤثر ہونا، یا اس میں ان کی کوئی حصے داری ہونا یا اس معاملے میں ان کا اللہ کا معاون ہونا وغیرہ۔ اب صرف شفاعت باقی رہی۔ لیکن اس کے بارے میں بھی واضح کر دیا ہے کہ شفاعت سے اسی کو فائدہ ہوگا، جس کے حق میں اللہ کی جانب سے شفاعت کی اجازت ہو۔ اس کا فرمان ہے: ﴿وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے، بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو-﴾ [سورہ الأَنْبِیَاء:۲۸]۔ چنانچہ یہ سفارش، جس کے زعم میں مشرکین مبتلا ہیں، قیامت کے دن ناپید ہو جائے گی، جیسا کہ قرآن نے اس کی نفی کی ہے، اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضر ہو کر پہلے سفارش کرنے کی بجائے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں گے اور اس کی حمد و ثنا کریں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیں اور بات کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سُنی جائے گی۔ آپ مانگیں، آپ کی مانگیں پوری کی جائیں گی۔ آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔" ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہے، جو آپ کی سفارش کا حق دار ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 〈جس نے خلوصِ دل سے کلمہ 'لا الہ الّا اللہ' کا اقرار کیا ہو گا!〉 اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شفاعت اللہ کی اجازت سے صرف مخلص مؤمنوں کو حاصل ہوگی۔ اُن لوگوں کو قطعی نہیں، جنہوں نے اللہ کا ساجھی ٹھہرایا ہو گا۔ اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ پاک اور برتر اللہ اپنے مخلص مؤمن بندوں کے ساتھ فضل و کرم کا معاملہ کرتے ہوئے، اپنے اس بندے کی دعا کی بدولت، جسے اس کی جانب سفارش کی اجازت کا اعزاز اور مقام محمود حاصل ہو گا، ان کی مغفرت فرما دے گا۔ چنانچہ جس شفاعت کا قرآن نے انکار کیا ہے، اس سے مراد وہ شفاعت ہے، جس میں شرک کی آمیزش ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی اجازت سے شفاعت کا اثبات کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف فرمایا ہے کہ شفاعت صرف اہلِ توحید و اخلاص کے لیے ہو گی۔" علامہ ابن تیمیہ کی بات ختم ہوئی۔

اس باب کے کچھ اہم مسائل

پہلا مسئلہ: مذکورہ آیتوں کی تفسیر ہوتی ہے۔

دوسرا مسئلہ: یہاں اس شفاعت کی صفت بیان کی گئی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

تیسرا مسئلہ: اس شفاعت کی بھی صفت موجود ہے، جو قابلِ قبول ہے۔

چوتھا مسئلہ: یہاں شفاعتِ کبرٰی کا بھی ذکر ہے۔ اسی کو مقامِ محمود بھی کہتے ہیں۔

پانچواں مسئلہ: یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے ہی شفاعت نہیں کریں گے، بلکہ سب سے پہلے اللہ کے سامنے سر بسجود ہو جائیں گے اور پھر اللہ کی طرف سے اجازت ملنے پر شفاعت کریں گے۔

چھٹا مسئلہ: یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں، جنھیں یہ سعادت حاصل لوگی؟

ساتواں مسئلہ: یہ شفاعت مشرکین کو حاصل نہیں ہو گی۔

آٹھواں مسئلہ: شفاعت کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔

مفت ایپ میں بھی

آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس

ایپ حاصل کریں

ابواب

۰۱ کتاب التوحید — جو بندوں پر اللہ کا حق ہے ۰۲ باب: توحید کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان ۰۳ باب: توحید کے تقاضوں کو پورا کرنے والا بلا حساب جنت میں جائے گا ۰۴ باب: شرک سے خوف کا بیان ۰۵ باب: لوگوں کو 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی دینے کی دعوت دینا ۰۶ باب: توحید کی تفسیر اور 'لا الہ الا اللہ' کی گواہی کا مطلب ۰۷ باب: بلا و مصیبت سے بچاؤ اور چھٹکارے کے لیے چھلّے اور دھاگے وغیرہ پہننا شرک ہے ۰۸ باب: جھاڑ پھونک اور تعویذوں کا بیان ۰۹ باب: کسی درخت یا پتھر وغیرہ کو متبرک سمجھنا ۱۰ باب: غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کا حکم ۱۱ باب: جس جگہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیے جائیں، وہاں اللہ کے نام پر ذبح کرنا جائز نہیں ۱۲ باب: غیر اللہ کے لیے نذر ماننا شرک ہے ۱۳ باب: غیر اللہ کی پناہ لینا شرک ہے ۱۴ باب: غیر اللہ سے فریاد کرنا یا انہیں پکارنا شرک ہے ۱۵ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿کیا وہ ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کیے گئے ہوں، اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے؟﴾ [سورہ الاعراف: 191، 192]۔ ۱۶ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ﴾ ﴿یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے، تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا ہے اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔﴾ [سورہ سبأ:23] ۱۷ باب: شفاعت کا بیان ۱۸ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے۔﴾ [سورہ القصص:56] ۱۹ باب: بنی آدم کے کفر اور ترکِ دین کا بنیادی سبب بزرگوں کے بارے میں غلو ہے۔ ۲۰ باب: کسی بزرگ کی قبر کے پاس بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرنا ناجائز اور سنگین جرم ہے، چہ جائیکہ خود اس مرد صالح کی عبادت کی جائے؟ ۲۱ باب : بزرگوں کی قبروں کے سلسلے میں غلو انہیں اللہ کے سوا پوجے جانے والے بُت بنا دیتا ہے۔ ۲۲ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے توحید کی مکمل حفاظت اور شرک تک لے جانے والی ہر راہ کو بند کرنے کی کوشش کی بیان ۲۳ باب: اس اُمت کے بعض لوگ بُتوں کی پوجا کریں گے ۲۴ باب: جادو کے احکام کا بیان ۲۵ باب: جادو کی چند اقسام کا بیان ۲۶ باب: کاہنوں وغیرہ کا بیان ۲۷ باب: جادو کے علاج کا بیان ۲۸ باب: بد شگونی اور بد فالی کے احکام کا بیان ۲۹ باب: نجوم سے متعلق احکام کا بیان ۳۰ باب: نچھتروں کے اثر سے بارش ہونے کا عقیدہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس بات کا بیان ۳۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو اللہ کے سوا اس کا ہمسر اور مدِ مقابل بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ محبت کرتے ہیں﴾ [سورہ البقرہ:165]۔ ۳۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے، جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو﴾ [سورہ آل عمران:175] ۳۳ باب: فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿اور تم اگر مؤمن ہو تو، تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے﴾ [سورۃ مائدہ:23] ۳۴ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا﴾ [سورۃ اعراف:99]۔ ۳۵ باب: اللہ تعالیٰ کی ﴿تکلیف دہ﴾ تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے ۳۶ باب: ریاکاری کے احکام کا بیان ۳۷ باب: انسان کا اپنے عمل سے دنیا طلب کرنا بھی شرک ہے ۳۸ باب: جس نے اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کے معاملے میں علماء و امراء کی اطاعت کی، اُس نے انہیں اپنا رب بنا لیا ۳۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے؟ ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آؤ، تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔ پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے، تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا﴾ ۴۰ باب: اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کے انکار کرنے والا کا بیان ۴۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں﴾ [سورہ النحل:83] ۴۲ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿پس جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراؤ﴾ [سورہ البقرة:22] ۴۳ باب: اللہ کی قسم پر کفایت نہ کرنے والے شخص کا بیان ۴۴ باب: ﴿﴿جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں﴾﴾ کہنے کا حکم ۴۵ باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ۴۶ باب: قاضی القضاۃ وغیرہ جیسے القاب اختیار کرنے کا حکم ۴۷ باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی ۴۸ باب: اللہ، یا قرآن یا رسول کے نام پر مشتمل کسی چیز کے مذاق اڑانے والے کا حکم ۴۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے، اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں، تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حق دار ہی تھا... یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے﴾ [سورۃ فصلت:50] ۵۰ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اولاد دے دی، تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے۔ سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے﴾ [سورۃ الاعراف:190] (اور اس ضمن میں ابن حزم رحمہ اللہ کا قول) ۵۱ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿اور اللہ کے اچھے نام ہیں، پس اسے انہیں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو، جو اس کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں﴾ [سورہ اعراف:180]۔ ۵۲ باب: 'السلام علی اللہ' کہنے کی ممانعت ۵۳ باب: "اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے" کہنے کا حکم ۵۴ باب: میرا بندہ اور میری بندی کہنے کی ممانعت ۵۵ باب: اللہ کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹایا جائے ۵۶ باب: اللہ کے چہرے کے واسطے سے صرف اور صرف جنت کا سوال کرنا چاہیے۔ ۵۷ باب: لفظ ﴿لَو﴾ 'اگر' استعمال کرنے کا حکم۔ ۵۸ باب: آندھی طوفان کو گالی دینے کی ممانعت ۵۹ باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے؟ آپ کہہ دیں کہ کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا، تو یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیں کہ گو تم اپنے گھروں میں ہوتے، پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا، وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اس کو پاک کرنا تھا اور اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید سے آگاہ ہے﴾ [سورہ آل عمران:154]۔ ۶۰ باب: تقدیر کے منکرین کا بیان ۶۱ باب: تصویر بنانے والوں کا حکم ۶۲ باب: بکثرت قسم کھانے کا بیان ۶۳ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم ۶۴ باب: اللہ پر قسم کھانے کا حکم ۶۵ باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ۶۶ باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا ۶۷ باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔

Listen offline — Free app

Progress · Background play

Get the app