باب ۶۳ / ۶۷
باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ اور ضمانت دینے کا حکم
نیز فرمایا: ﴿وَأَوْفُواْ بِعَهْدِ اللهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ وَلاَ تَنقُضُوا الأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وقَدْ جَعَلْتُمُ اللهَ عَلَيكُم كَفِيلاً إنَّ اللهَ يَعلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ [النَّحْلُ:۹۱]
“اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول وقرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔”
بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے، تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت فرماتے اور کہتے: «اللہ کا نام لے کر جہاد کرو۔ اللہ کے راستے میں اس کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جنگ کرو۔ جنگ تو کرو، لیکن خیانت نہ کرنا، عہد شکنی نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ جب مشرکوں میں سے دشمنی رکھنے والوں سے تمہارا سامنا ہو تو انہیں تین باتوں میں سے کسی ایک کی جانب دعوت دینا۔ وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کر لیں، تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کر لو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت پیش کرو۔ اگر وہ گروہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کر لو۔ پھر انہیں اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی احکام لاگو ہوں گے جو مہاجرین پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں ﴿اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں﴾ تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی ﴿بدوی﴾ مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے، ان پر اللہ کا حکم جاری ہو گا اور مال غنیمت ومال فے میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔ الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ گروہ اس سے ﴿یعنی اسلام لانے سے﴾ انکار کر دیں، تو انہیں جزیہ دینے کے لیے کہو۔ اگر وہ گروہ اسے تسلیم کر لیں، تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ لیکن اگر وہ گروہ اس سے بھی انکار کر دیں، تو پھر اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی شروع کر دو۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کر لو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ ﴿امان کا عہد﴾ طلب کریں، تو تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ ﴿امان کا عہد﴾ نہ دو، بلکہ تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ ﴿امان کا عہد﴾ دو، کیوں کہ تمہارا اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے سے بہت ہلکا ہے۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کر لو اور اس قلعہ کے لوگ یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم ﴿فیصلے﴾ پر ہتھیار ڈالنے دو، تو تم ایسا نہ کرنا، بلکہ انہیں اپنے حکم ﴿فیصلے﴾ پر ہتھیار ڈالنے دینا۔ کیوں تمہیں نہیں معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے فیصلے کو پہنچتے ہو یا نہیں۔» اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قول وقرار و ضمانت میں فرق ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جب دو خطرناک صورتیں درپیش ہوں، تو ان میں سے جو کم خطرے کا حامل ہو، اسے اختیار کر لینا چاہیے۔
تیسرا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «اللہ کی راہ میں اس کے نام سے جہاد کرو۔»
چوتھا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے: «جو اللہ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرے، اس سے جہاد کرو۔»
پانچواں مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «اللہ سے مدد طلب کرو اور کفار سے جنگ کرو۔»
چھٹا مسئلہ: اللہ تعالیٰ اور علما کے فیصلے میں فرق ہے۔
ساتواں مسئلہ: ضرورت کے وقت صحابی بھی ﴿اپنے اجتہاد سے﴾ کوئی فیصلہ کرے، تو وہ بھی نہیں جانتا کہ وہ فیصلہ اللہ کے مطابق ہے یا نہیں؟
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس