صحیح بخاری اور مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بد ترین نام اس شخص کا ہے، جو 'ملک الاملاک' (شہنشاہ) نام رکھے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی مالک نہیں۔»
سفیان ثوری نے 'ملک الاملاک' کے حکم میں شہنشاہ کے لقب کو بھی شامل کیا ہے۔
ایک دوسری روایت میں ہے: "شہنشاہ کا لقب اختیار کرنے والا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب زیادہ مغضوب اور خبیث ترین شخص ہے۔"
«اَخْنَعُ» کے معنی نیچ اور کمتر کے ہوتے ہیں۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: کسی کو «ملک الاملاک» کے نام سے موسوم کرنا منع ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس قسم کے دیگر الفاظ، اسما اور القاب بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں، جیسا کہ سفیان ثوری نے مثال پیش کر کے سمجھایا ہے۔
تیسرا مسئلہ: اس قسم کے الفاظ و تعبیرات کی ناپسندیدگی کو سمجھنا اور ان پر غور کرنا چاہیے، گرچہ انسان کے دل میں ان کے حقیقی معنی مراد نہ بھی ہوں۔
چوتھا مسئلہ: اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ممانعت اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالتِ شان کے پیشِ نظر ہے۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا احترام اور اس کی وجہ سے کسی انسان کے نام میں تبدیلی
← پچھلا باب
باب: جس نے زمانے کو بُرا بھلا کہا، اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی