باب ۶۶ / ۶۷
باب: محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا توحید کی حفاظت فرمانا اور شرک کے راستوں کو بند کرنا
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بنو عامر کے ایک وفد کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اسی بیچ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ہمارے سید ﴿سردار﴾ ہیں!
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سید ﴿سردار﴾ تو اللہ تبارک وتعالی ہے۔"
ہم نے کہا: آپ مقام ومرتبہ میں ہم سب سے افضل اور سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم اپنی یہ بات کہو یا اس میں سے کچھ کہو اور دھیان رکھو کہ شیطان تمہیں کہیں پھانس نہ لے۔" اسے ابوداؤد نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، اے ہم سب سے بہتر، ہمارے بہتر کے بیٹے، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: "اے لوگو! تم وہی باتیں کرو جو تم کرتے ہو اور دیکھو کہیں شیطان تمہیں بہکانہ دے۔ میں محمد اللہ کا بندہ اوراس کا رسول ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے اس مقام ومرتبے سے بڑھادو، جس پر اللہ تعالی نے مجھے فائز کیا ہے۔" اس حدیث کو نسائی نے بسند جید روایت کیا ہے۔
اسے ابوداؤد نے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول، اے ہم سب سے بہتر، ہمارے بہتر کے بیٹے، ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا:
"اے لوگو! تم وہی باتیں کرو جو تم کرتے ہو اور دیکھو کہیں شیطان تمہیں بہکانہ دے۔ میں محمد اللہ کا بندہ اوراس کا رسول ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے اس مقام ومرتبے سے بڑھادو، جس پر اللہ تعالی نے مجھے فائز کیا ہے۔"
اس حدیث کو نسائی نے بسند جید روایت کیا ہے۔
اس باب کے کچھ اہم مسائل
پہلا مسئلہ: یہاں لوگوں کو غلو کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔
دوسرا مسئلہ: اس بات کی رہنمائی کہ جسے 'آپ ہمارے سید ﴿سردار﴾ ہیں' کہا جائے، اسے جواب میں کیا کہنا چاہیے؟
تیسرا مسئلہ: گرچہ ان لوگوں نے صحیح کہا تھا، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «لَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ» دیکھو کہیں، شیطان تمہیں پھانس نہ لے۔
چوتھا مسئلہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي» میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ مرتبے سے اوپر بڑھا دو۔
مفت ایپ میں بھی
آف لائن ڈاؤن لوڈ · مکمل کتاب · آڈیو دروس
اگلا باب →
باب: ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی۔ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں﴾ [سورہ الزمر:67]۔
← پچھلا باب
باب: اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا